Saturday, September 17, 2016

Khutba in Arafat by Imam of Baitullah on Hajj 2016

Points from Khutba in Arafat by Imam of Baitullah on this Hajj. Long but each point is precious diamond. Forward far and wide:

☂Surround urself with Muslims who practice the Deen. They are ur only True Friends in this Life and in the Hereafter.
☂Not everybody is out there to judge you, there are some who want the best for you and want to help you get into Al-Jannah, value them.
☂Indeed, a friend who doesn't care about your Aakhirāh is not really your friend.
☂Sometimes the hardest person for you to correct is yourself. There is no shame in being wrong, the shame is in choosing to stay on the wrong path.
☂Whatever takes you NEAR to Allah, takes you AWAY from Hellfire. Whatever takes you AWAY from Allah, takes you CLOSER to Hellfire.
☂We all take tomorrow for granted because we believe tomorrow will always be there. Tomorrow may be there, but we may not!
☂Who said "TOMORROW" is guaranteed? Make the use of "TODAY" that you are blessed with!
☂Yesterday many thought that they would see today, and today many will think they will see tomorrow.
☂Death could be tonight, in the next hour, the next second, yet we live as if we still have so many years to live.
☂You may be rich, famous or have a high status in this dunyah, but to the Angel of Death, you're just another name on the list.
☂Our death and meeting with our Creator is approaching and yet our biggest worry is what are we going to wear tomorrow?  #‎in  competition
☂One day you'll just be a memory for people, and a lesson to others. Do everything you can to please Allah, be a positive lesson.
☂Just imagine how many people were here with us last year, but are no longer here again! Even our turn is soon approaching. May Allah forgive us an forgive them.
☂We walk with our heads high up in the sky, unaware that one day we'll be trapped 6' Feet under the ground.  #‎Reminder
☂You look for the latest fashion and designer clothes, but don't forget O' Son of Adam! You will end up being wrapped up in just a white shroud.
☂Live to please the Creator, not the creation. If Allah is happy with us, what more can we ask for?
☂It's sad how we only begin to appreciate blessings, either materialistic things or good people; only after we lose them. When it's too late!? Do we really invest to be like them?
☂You wouldn't throw away a diamond to pick up a rock, so in the same way, don't throw away the Aakhirah (Paradise) by chasing the Dunya (worldly).
☂How do you expect to get Al-Jannah (paradise) when you haven't worked for it in Dunya? That's like expecting to pass an exam you never took a class for.
☂We live in a time where people leave out food in fear of becoming overweight, but cannot leave out sins in fear of Allah!
☂For a believer. — you may be penniless, homeless, unemployed, sick and feel like you have nothing. But you have the One thing that money can't buy: "Allah".
☂Allāh knows what you want, what you need, what you deserve, at what time & what place, trust Him & His decisions (is best for HIS creation), He knows while you don't.
☂If a kaafir celebrity mentioned your name to the world, how happy would you be? Mention Allah in a gathering, and He mentions you to the angels!
☂And, make the Qur'an your companion and a part of your life. Don't let urself become a stranger to it. The Qur'an is like a friend, the longer the friendship lasts the more you will know of its secrets.
☂Don't praise me because I'm on my Deen, but pray for me because I have faults which you have not seen.
ُ"Truly, Allah loves those who repent (the prodigal son), and He loves those who cleanse themselves." [Al-Quran 2:222].
May Allah purify our hearts. And peace and blessings of Allah be upon our noble Messenger of Allah, Muhammad and his household.

Saturday, September 03, 2016

Python: Performance comparison of Bubble , Insertion, and Selection sort


starting bubble sort
starting insertion sort
starting selection sort


def SelectionSort(alist):

    for i in range(0, len(alist) - 1):

        min = i

        for j in range(i+1, len(alist)):

            if( alist[j] < alist[min]):

                min = j

        if min != i:

            temp = alist[i]

            alist[i] = alist[min]

            alist[min] = temp

    return alist

def insertionSort(alist):

    for i in range(0,len(alist)):

        key = alist[i]

        j = i - 1

        while j>=0 and alist[j]>key:

            alist[j+1] = alist[j]

            j = j - 1

        alist[j+1] = key

    return alist

def BubbleSort(alist):

    for i in range(0,len(alist)):

        swap = 0

        for j in range(0,len(alist)-1-i):


                temp = alist[j]

                alist[j] = alist[j+1]

                alist[j+1] = temp

                swap = swap + 1

        if(swap == 0):

    return alist

def CompareSortingAlgos(limit):

    import random

    import time

    l = []

    for i in range (0, limit):

        n = int((random.gauss(4,2) * 10000) % 999)

        l = l + [n]

    print("starting bubble sort")

    start = time.time()

    j = BubbleSort(l)

    print(time.time() - start)

    print("starting insertion sort")

    start = time.time()

    k = insertionSort(l)

    print(time.time() - start)

    print("starting selection sort")

    start = time.time()

    l = SelectionSort(l)

    print(time.time() - start)

آسانیاں بانٹنا

کسی بزرگ نے کہا کہ: "اللہ آپ کو آسانیاں بانٹنےکی توفیق عطا کرے"
جواب دیا کے ہم مال پاک کرنے کے لئے زکات بھی دیتے ہیں ، بلا ٹالنے کے لئے حسب ضرورت صدقہ بھی دیتے ہیں ، اور تو اور کام والی کے بچے کی تعلیم کا ذمہ بھی اٹھایا ہوا ہے، ہم تو کافی آسانیاں بانٹ چکے.....
ایک مضطرب مسکراہٹ کے بعد فرمایا : بیٹا ! سانس، پیسے ، کھانا، یہ سب رزق کی اقسام ہیں ، اور رازق وہ ہے تم نہیں؛ تم یہ سب کرنا چھوڑ دو تو بھی اس کی ذات یہ سب فقط ایک ساعت میں عطا کر سکتی ہے ، تم تو یہ سب کر کے محض اشرف المخلوقات ہونے کا فرض ادا کر رہے ہو .
میں تمہیں سمجھاتا ہوں آسانیاں بانٹنا کیا ہے ،
کسی اداس اور مایوس آدمی کے کندھے پے ہاتھ رکھ کے اس کی ایک گھنٹہ لمبی بات پیشانی پے بغیر شکن لاۓ سننا آسانی ہے ،
کسی بیوہ کی بیٹی کے رشتے کی اپنی ضمانت پے تگ ودو کرنا آسانی ہے ،
صبح آفس جاتے ہوے کسی یتیم بچے کو اسکول لے جانے کی ذمہ داری لینا آسانی ہے ،
اگر آپ کسی گھر کے داماد یا بہنوئی ہیں تو خود کو تمام رشتوں سے افضل نہ سمجھنا بھی آسانی ہے ،
کسی غصے میں بپھرے آدمی کی نہایت غلط بات برداشت کرنا آسانی ہے ،
کسی کی غلطی ، لغزش یا غلط فہمی پے خدائی صفت بروے کار لانا اور پردہ ڈالنا بھی آسانی ہے ..
چاۓ والے کو اوے کہ کے نہ بلانا بھی آسانی ہے ،
گلی کے کونے پے چھابڑی والے سے دام پے بحث نا کرنا آسانی ہے ،
آفس ، دکان یا کام کی جگہ پے چوکیدار یا ملازم سے گرم جوشی سے ملنا اور اس کے بچوں کا حال پوچھنا بھی آسانی ہے ،
ہسپتال میں اپنے مریض کی دیکھ بھال کے ساتھ، برابر والے بستر پے پڑے انجان مریض کے پاس بیٹھ کےدولمحےتسّلی دینا بھی آسانی ہے،
اشارے پے کھڑے ہو کے کسی ایسے شخص کو ہارن نہ دینا جس کی موٹر بائیک آپ کی گاڑی کے آگے بند ہو جاۓ، یہ بھی آسانی ہے ،
بیٹا جی ! آسانی گھر سے ہی شروع کریں ،
آج واپس جا کے گھر کی بیل ایک دفعہ دے کے تھوڑا انتظار کریں ،
باپ کی ڈانٹ ایسے سنیں جیسے ریڈیو پے گانا سنتے ہیں ،
ماں کی بات اس کی دوسری آواز دینے سے پہلے سنیں ،
بہن کی ضرورت اس کی شکایت سے پہلے پوری کر دیں ،
بیگم کی غلطی پے اس کو سب کے سامنے درست نہ کریں ،
سالن اچھا نہ لگے تو شکایت نہ کریں ، استری ٹھیک نہ ہو تو خود کر لیں ،
بیٹا جی ! زندگی آپ کی محتاج نہیں ، آپ اس کے محتاج ہیں ، منزل کی فکر چھوڑیں ،
اپنا اور دوسروں کا راستہ آسان بنائیں ، منزل خود ہی مل جاۓ گی ....
اللہ ہم سب کو آسانیاں بانٹنے کی توفیق عطا


Tuesday, August 30, 2016

آذان و نماز کا احترام

امام احمد بن حنبل کے پڑوس میں ایک لوہار رہتا تھا جب وہ فوت ہوا تو ایک محدث نے انکو خواب میں دیکھا پوچھا کہ فرمائیں کیا معاملہ پیش آیا ۔ لوہار نے کہا کہ مجھے امام احمد کے برابر درجہ ملا ہے ۔ اور اللہ مجھ سے راضی ہے ۔ وہ محدث بڑا حیران ہوا کہ یہ تو ایک عام سا دنیادار لوہار تھا جبکہ امام احمد تو دین و دنیا کے مسائل سمجھاتے قرآن و احادیث کا علم پھیلاتے کتنی مشکلات کا سامنا کیا ۔
اس محدث نے دوسرے علما کو یہ بات بتائی تو سب نے مشورہ کیا کہ ہم لوہار کے اہلہ خانہ سے پتہ کرنا چاہیے۔ وہ انکے گھر چلے گئے ۔ اس محدث نے پوچھا " بی بی آپکے شوہر کو ہم نے بہت اچھے درجے میں دیکھا ہے کیا آپ انکے کسی حاص عمل کا علم رکھتی ہے جو انکے زندگی میں عام تھا ۔ لوہار کی بیوی نے کہا کہ میرا شوہر کوئی حاص عمل نہیں کرتا تھا وہ ایک دنیا دار انسان تھا ۔ سارا دن وہ لوہے کا کام کرتا تھا ۔
میرے شوہر کے دو نمایاں عمل جو میں نے محسوس کیے ان میں ایک تو یہ کہ انکے اندر آذان و نماز کا بے حد احترام تھا ۔ اگر لوہے پہ ضرب مارنے کے لیے کھبی انکا ہاتھ اوپر ہوتا اور اسی وقت اللہ اکبر کی آواز آتی تو آپ اسی وقت اپنا ہاتھ نیچے کرلیتے وضو کرتے اور نماز پڑھنے چلے جاتے۔
دوسری بات یہ کہ میرے شوہر سارا دن دکان پہ مصروف ہوتے رات کو ہم چھت کے اوپر سوتے ہمارے  پڑوس میں امام احمد بن حنبل رہتے تھے جو ساری ساری رات قرآن کی تلاوت کرتے میرے شوہر حسرت سے انکی طرف دیکھتے اور ٹھنڈی آہیں بھرتے اور اللہ سے دعا کرتے کہ یااللہ میں بے حد غریب انسان ہوں آپ سے میرا کچھ چھپا نہیں اگر میری کمر ہلکی ہوتی تو میں بھی اس طرح امام صاحب جیسے ساری رات قرآن پڑھا کرتا تھا ۔ کھب کھبی میرے شوہر یہ دعا کرتے ہوے رونے لگ جاتے ۔
اس محدث نے کہا کہ آذان کے ادب اور نیکی کرنے کی تڑپ کی وجہ سے ہی اللہ پاک نے آپکے شوہر کی مغفرت کی ہے اور انکو امام حنبل کے برابر درجہ دیا ہے ۔
ہمارے بچپن میں جب آذان ہوتی تھی تو ٹی وی بند کردیا جاتا کہ آذان ہورہی ،پھر وقت آیا جب آذان کے وقت ٹی بند کرنے کی روایت ختم ہوئی اور بس آواز بند کرنے پہ اکتفا کیا گیا ۔ وقت گزر گیا اور آج آذان بھی ہورہی ہوتی ھے اور سٹار پلس بھی چلتا ہے۔
شیئر کیجیے اور اس پیغام کو دور دور تک پھیلانے میں ھمارے مددگار بنیئے.. یہ صدقہ جاریہ ھے..!! فرقہ واریت اور مسلکی تعصب سے پاک ایک خالص اصلاحی گروپ(اصلاح امت).. جہاں ھم امت مسلمہ کے اتحاد و اتفاق کے لیے کوشاں ھیں....

Sunday, August 21, 2016

اللہ کی دی ہوئ نعمتوں کی قدر کیجئے

کسی جنگل میں ایک کوا رہتا تھا۔ کوا اپنی زندگی سے بڑا مطمئن اور خوش باش تھا۔ ایک دن کوے نے پانی میں تیرتے سفید ہنس کو دیکھا۔ کوا ہنس کے دودھ جیسے سفید رنگ اور خوبصورتی سے بڑا متاثرهوا اور سوچنے لگا کہ یہ ہنس تو یقینا'' دنیا کا خوبصورت ترین اور خوش ترین پرندہ ہوگا۔اس کے مقابلے میں میں کتنا کالا کلوٹا اور بھدا ہوں۔
کوے نے جب یہی بات ہنس سے کی تو ہنس بولا کہ میں بھی اپنے آپ کو دنیا کا خوبصورت اور خوش قسمت ترین پرندہ سمجھتا تھا لیکن جب میں نے طوطے کو دیکھا تو مجھے اس پر رشک آیا کہ اس کو دو خوبصورت رنگوں سے نوازا گیا ہے۔ میرے خیال میں تو طوطا دنیا کا سب سے خوبصورت پرندہ ہے۔
کوا یہ سن کر طوطے کے پاس پہنچا۔جب اس نے یہی بات طوطے سے کہی تو طوطا بولا۔'' میں بھی بڑا خوش باش اور اپنی زندگی اورخوبصورتی سے بہت مطمئن تھا لیکن جب سے میں نے مور کو دیکھا ہے میرا سارا سكون اور خوشی غارت ہو گئ ہے۔ مور کو تو قدرت نے بیشمار پنکھوں اور خوب صورت رنگوں سے نوازا ہے۔۔
کوا مور کو ڈھونڈتے ہوے چڑیا گھر پہنچ گیا جہاں مور ایک پنجرے میں قید تھا اور سینکڑوں لوگ اسے دیکھنے کے لئے جمع تھے۔ شام کو جب لوگوں کی بھیڑ زرا چھٹی تو کوا مور کے پاس پہنچا اور بولا، '' پیارے مور، تم کس قدر خوبصورت ہو۔ تمہارا ایک ایک رنگ کتنا خوبصورت ہے۔ روزانہ ہزاروں لوگ تمہیں دیکھنے آتے ہیں اور ایک میں ہوں کہ مجھے دیکھتے ہی شو شو کر کے مجھے بھگا دیتے ہیں۔ تم یقینا'' دنیا کے خوبصورت اور خوش قسمت ترین پرندے ہو۔ تم کتنے خوش ہوگے۔ ''
مور بولا۔ '' ہاں میں بھی خود کو دنیا کا سب سے حسین پرندہ سمجھتا تھا لیکن ایک دن اسی خوبصورتی کی وجہ سے مجھے پکڑ کر اس پنجرے میں قید کرلیا گیا۔ جب میں اس چڑیا گھر کا جائزہ لیتا ہوں تو احساس ہوتا ہے کہ واحد کوا ہی ایسا پرندہ ہے جسے آج تک پنجرے میں نہیں رکھا گیا۔ اب پچھلے کچھ دنوں سے میں سوچتا ہوں کہ کاش میں ایک کوا ہوتا اور آزادی سے جنگلوں میں اڑتا گھومتا پھرتا۔''
بالکل یہی مسئلہ ہمارا بھی ہے۔ ہم ہر وقت غیر ضروری طور پر دوسروں کے ساتھ اپنا موازنہ کرتے رہتے ہیں۔۔ اللہ پاک نے ہمیں جن نعمتوں اور صلاحیتوں سے نوازا ہے ان کی قدر نہیں کرتے اور ہر وقت شکائتیں کرتے رہتے ہیں۔ یہی نا شکری ہم سے ہماری خوشی و شادمانی چھین لیتی ہے۔ ایک کے بعد ایک غم اور اداسی ہم کو گھیر لیتی ہے۔
اللہ کی دی ہوئ نعمتوں کی قدر کیجئے۔ فضول میں اپنا موازنہ دوسروں سے نہ کیجئے۔یہی خوشی اور سکون کا راز ہے۔

حقیقی دوست (Real Friendship)

۔ ایک شخص کا ایک بیٹا تھا روز رات کو دیر سے آتا اور جب بھی اس سے باپ پوچھتا بیٹا کہاں تھے.؟ تو جھٹ سے کہتا کہ دوست کے ساتھ تھا. ایک دن بیٹا جب بہت زیادہ دیر سے آیا تو باپ نے کہا کہ بیٹا آج میں تمہارے دوست سے ملنا چاہتا ہوں. بیٹے نے فوراً کہا اباجی اس وقت؟؟ ابھی رات کے دوبجے ہیں کل چلتے ہیں. باپ نے جواب دیا نہیں ابھی چلتے ہیں. تمہارے دوست کا تو پتہ چلے. باپ نے ضد ٹھان لی. جب اس کے گھر پہنچے اور دروازہ کھٹکھٹایا تو کافی دیر تک کوئی جواب نہ آیا. بالآخر بالکونی سے سر نکال کہ ایک بزرگ نے آنے کی وجہ دریافت کی تو لڑکے نے جواب دیا  دوست سے ملنا ہے. اس وقت, مگروہ تو سو رہا ہے بزرگ نے جواب دیا. چاچا آپ اس کو جگاؤ مجھے اس سے ضروری کام ہے, مگربزرگ اپنی بات پہ ڈٹا رہا کہ صبح کو آجانا. ابھی سونے دو ,اب تو عزت کا معاملہ تھا تو اس نے ایمرجنسی اور اہم کام کا حوالہ دیا مگرآنا تو درکنار دیکھنا اور جھانکنا بھی گوارا نہ کیا ۔

 تبھی باپ نے بیٹے سے کہا کہ چلو اب میرے ایک دوست کے پاس چلتے ہیں. جس کا نام خیر دین ہے. دور سفر کرتے اذان سے ذرا پہلے وہ اس گاؤں پہنچے اور خیردین کے گھر کا دروازہ کھٹکھٹایا, مگر جواب ندارد بالاخر اس نے زور سے اپنا نام بتایا کہ.میں اللہ بخش ہوں,مگر پھر بھی دروازہ. ساکت رہا . اب تو بیٹے کے.چہرے پہ بھی فاتحانہ مسکراہٹ آگئی.لیکن اسی لمحے لاٹھی کی ٹھک ٹھک. سنائی دی. اور دروازہ کھلنےکی  آواز ہوئی۔  ایک بوڑھا.شخص برآمد ہوا جس نے لپٹ کہ اپنے دوست کو گلے لگایا اور بولا کہ میرے دوست بہت معذرت مجھے دیر اس لیے ہوئی کہ آج تم نے ستائیس سال بعد میرا دروازہ رات گئے بجایا تو مجھے.لگا کہ تم کسی مصیبت میں.ہو اس لیے جمع شدہ پیسے نکالے کہ کہیں پیسوں کی ضرورت  نہ ہوا،  پھر بیٹےکو جگایا کہ جوان کی ضرورت ہوئی تو اسے ساتھ لے چلتا ہوں۔  پھر سوچا  کہ شاید پنچائت کا فیصلہ ہوگا اس لیے پگڑی  بھی لایا ہوں. اب سب کچھ سامنے ہے ۔ بتاؤ کس چیز.کی ضرورت ہے؟؟

یہ. سن کہ بیٹے کی آنکھوں. سے آنسو آگئے کہ ابا جی کتنا سمجھاتے تھے کہ بیٹا دوست وہ نہیں. ہوتا جو رت جگوں میں. ساتھ ہو. بلکہ دوست وہ ھوتا ھے جو ایک آواز پہ ہی حق نبھانے آجائے.

Saturday, August 20, 2016

Mirat-ul-Uroos - Fariha Pervez - Lyrics

میرا ایک چھوٹا سا سپنا ہے
جسے پل میں پورا کر دے گا
ان آتی جاتی سانسوں میں
وہ خوشبو کوئی بھر دے گا
مجھے اونچی ہواوُں میں اڑنا ہے
اور امبر کو جا چھونا ہے
سونا ہے یار کے بستر پر
پھر ہر ایک خواہش میں جگنا ہے
جب چاہوں گھوموں بگھیا میں
میں تتلی ہوں مجھے پر دیتا
وہاں کیسے چیں ملے مجھ کو
جہاں قدم قدم پر پہرے ہوں
دم گھٹتا ہوجہاں  رہتے ہوئے
جہاں غم کے سائے گہرے ہوں
جومنزل پر لے جائے گی
وہ مجھ کو ایسی ڈگر دے گا
میں چلتے چلتے تھک بھی گئی
اور منزل ہاتھ نہیں آئی
خود اپنے سپنے تور لیئے
اور سکھ کی رات نہیں آئی
اب آکے ہوا مجھے انداذہ
میرا ساتھ وہ ذندگی بھر دے گا
کیوں حد سے گزری وحشت میں
اسے دھیرے دھیرے کیوں نہ چھوا
کیوں سارے ناتے ٹوٹ گئے
بھری بھول ہوئی احساس ہوا
جب ٹوٹے لمحے جوڑوں گی
مجھے جینے کی وہ خبر دے گا
میرا چھوٹا سا اک سپنا ہے
جسے پل میں پورا کردے گا
ان آتی جاتی سانسوں میں
وہ خوشبو کوئی بھر دے گا

Friday, July 29, 2016

یہ لمحہ تم سے ذندہ ہے

وہ تم کو خوف دلائیں گے

جو ہے وہ بھی کھو سکتا ہے

اس راہ میں رہزن ہیں اتنے

کچھ اور یہاں ہوسکتا ہے

کچھ اور تو اکثر ہوتا ہے

پر تم جس لمحے میں ذندہ ہو

یہ لمحہ تم سے ذندہ ہے 

یہ وقت نہیں پھر آئے گا

تم اپنی کر گزرو

جو ہوگا دیکھا جائے گا

Saturday, July 02, 2016

Reasons of declining of knowledge in common people of Pakistan? who is responsible?

Following is an extract from an article published on BBC Urdu 

پاکستان میں عام آدمی میں علم کا معیار کیوں زوال پذیر ہے اور اس کا ذمے دار کون ہے؟

اس بارے میں ڈاکٹر ذکریا کا کہنا ہے کہ جب تعلیمی اداروں کو کمرشلائز کر دیا جائے اور طالبعلم فخر سے کہیں کہ ’صرف امتحان کی تیاری کے لیے پڑھتے ہیں‘ تو پھر تعلیم محض ملازمت حاصل کرنے کے لیے ہی حاصل کی جاتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’فکر اور سوچ علم سے آتی ہے۔ کتاب سے تعلق نہیں۔ بڑی بڑی یونیورسٹیوں میں بھی کوئی بڑی کتاب کی دکان نہیں ہوتی اور اگر کوئی ہوتی بھی ہے تو وہاں ٹیسٹ پیپرز اور خلاصے ہی فروخت ہوتے ہیں۔‘

سماجی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس رجحان سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستانی معاشرہ فکری انحطاط کا شکار ہو گیا ہے اور جہاں جس کا بس چلے وہ وہاں سے زیادہ سے زیادہ حاصل کرنا چاہتا ہے۔

انسان اور حیوان میں فرق صرف فکر کا ہی تو ہے۔ فکر انسان کو یہ باور کرواتی ہے کہ اُسے دوسروں کا خیال رکھتے ہوئے آگے بڑھنا ہے لیکن تعلیم کی کمی انسان کو پستی کی جانب دھکیلتی ہے جو بقول ڈاکٹر مبارک علی کے ایک ’بلیک ہول‘ ہے جس کی کو آخری حد نہیں ہے۔

Dr Zakaria said that when Education become commercialized and student feel proud to say that we do study only at time of exams, then education become just a reason to get a job. 

He said that knowledge come from thinking. We lost connection from books. Even big universities do not have good book shops - and if they have, then to sale test papers and summaries. 

This trend shows, social experts say, that Pakistani society has suffered a mental collapse, and where they just want to get the most from a situation.

The difference between man and beast is the thinking process. This is thinking process that remind us that we have to advance but by taking care of others. But lack of education is pushing us toward decline. Dr. Zakaria consider this as a black-hole with infinite limitation. 

Friday, August 14, 2015

I wish I had spend more time at the office?

What if your job didn’t control your life? Brazilian CEO Ricardo Semler practices a radical form of corporate democracy, rethinking everything from board meetings to how workers report their vacation days (they don’t have to). It’s a vision that rewards the wisdom of workers, promotes work-life balance — and leads to some deep insight on what work, and life, is really all about. Bonus question: What if schools were like this too? (

Thursday, August 13, 2015

Edit Distance: Impossible to calculate in linear time?

In Computer Science, Edit Distance is a technique to calculate number of characters required to be add or removed from a string to make equivalent to another string. We can also use this to quantify how differ a string from another string. This has many application including in Bioinformatics to match two DNA strings.

Recently, two scientists, Indyk and Backurs, found that it is impossible to calculate Edit Distance in less than quadratic time. They proved that Edit Distance problem can be solvable in polynomial time if and only if P equal to NP problems.

The complete paper is available here:

Friday, February 06, 2015

ہمارے کرنے کے کام!

یہ آنکھ ظاہری بصارت کے لئے ہے اس سے لوگوں کے باطل کے بارے میں فیصلے صادر نہیں کرنے چاہئے۔ کہیں کسی میل کچیل میں کوئی ولی تو کہیں کو اندھیرے میں اللہ کابندہ ۔ تیرا کام تو بس اللہ کے دیے کو بانٹنا ہے چاہے وہ اسکی دی ہوئی مسکراہٹ ہو یا سکا مال یا اسکی صفت "معافی"۔

Monday, January 26, 2015

When change can happen in institutions?

Dr. Irfan Hyder mentioned in comments of his recent post on his blog post "Why Project Based Learning? An Experiential Learning Case Study of Language Teaching" about change management in institutions. I believe this one paragraph is enough to understand how you can make changes at higher level. The full blog post is worthy to read and recommended for everyone; specially those in academia.

  1. You are right no institutional change can happen unless you have a critical mass of "change agents" (technical term). As I mentioned elsewhere, these "change agents" can be found in your subordinates, peers and even superiors. These are the people who are willing to change because they can see that the change will bring for them professional prominence in this job or even in market elsewhere. These are the people to be first identified, stimulated, convinced, and encouraged. Then each of them would start posting "small-wins" (technical term) wherever they are. This brings support to your and their initiatives and slowly and gradually you build up the momentum for change. Soon one of these agents would be put in a position of responsibility because of the new ideas and initiatives that they are promoting. All organizations sooner or later desperately require such people. That, then becomes a catalytic moment.

Tuesday, January 13, 2015

Update: Personal Website

Hello everyone!

Finally, I am able to update my personal website. The earlier version was too old and was loaded with some heavy graphics. This time I stick with minimal and responsive design. The site developed using GetSimpleCMS - a file based content management system. The reason to use file based system is simplicity - CMS like Joomla and Wordpress indulge unwanted complexity which result long learning curve even for simpler tasks. I had to spend sometime to select right theme and then there is need to play bit with templates and style-sheet. 

Visit my page at - any feedback is welcome.