Friday, July 29, 2016

یہ لمحہ تم سے ذندہ ہے


وہ تم کو خوف دلائیں گے

و ہے وہ بھی کھو سکتا ہے

اس راہ میں رہزن ہیں اتنے

کچھ اور یہاں ہوسکتا ہے

کچھ اور تو اکثر ہوتا ہے

پر تم جس لمحے میں ذندہ ہو

یہ لمحہ تم سے ذندہ ہے 

یہ وقت نہیں پھر آئے گا

تم اپنی کر گزرو

جو ہوگا دیکھا جائے گا


Saturday, July 02, 2016

Reasons of declining of knowledge in common people of Pakistan? who is responsible?

Following is an extract from an article published on BBC Urdu 

پاکستان میں عام آدمی میں علم کا معیار کیوں زوال پذیر ہے اور اس کا ذمے دار کون ہے؟

اس بارے میں ڈاکٹر ذکریا کا کہنا ہے کہ جب تعلیمی اداروں کو کمرشلائز کر دیا جائے اور طالبعلم فخر سے کہیں کہ ’صرف امتحان کی تیاری کے لیے پڑھتے ہیں‘ تو پھر تعلیم محض ملازمت حاصل کرنے کے لیے ہی حاصل کی جاتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’فکر اور سوچ علم سے آتی ہے۔ کتاب سے تعلق نہیں۔ بڑی بڑی یونیورسٹیوں میں بھی کوئی بڑی کتاب کی دکان نہیں ہوتی اور اگر کوئی ہوتی بھی ہے تو وہاں ٹیسٹ پیپرز اور خلاصے ہی فروخت ہوتے ہیں۔‘

سماجی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس رجحان سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستانی معاشرہ فکری انحطاط کا شکار ہو گیا ہے اور جہاں جس کا بس چلے وہ وہاں سے زیادہ سے زیادہ حاصل کرنا چاہتا ہے۔

انسان اور حیوان میں فرق صرف فکر کا ہی تو ہے۔ فکر انسان کو یہ باور کرواتی ہے کہ اُسے دوسروں کا خیال رکھتے ہوئے آگے بڑھنا ہے لیکن تعلیم کی کمی انسان کو پستی کی جانب دھکیلتی ہے جو بقول ڈاکٹر مبارک علی کے ایک ’بلیک ہول‘ ہے جس کی کو آخری حد نہیں ہے۔

Dr Zakaria said that when Education become commercialized and student feel proud to say that we do study only at time of exams, then education become just a reason to get a job. 

He said that knowledge come from thinking. We lost connection from books. Even big universities do not have good book shops - and if they have, then to sale test papers and summaries. 

This trend shows, social experts say, that Pakistani society has suffered a mental collapse, and where they just want to get the most from a situation.

The difference between man and beast is the thinking process. This is thinking process that remind us that we have to advance but by taking care of others. But lack of education is pushing us toward decline. Dr. Zakaria consider this as a black-hole with infinite limitation. 


Friday, August 14, 2015

I wish I had spend more time at the office?

What if your job didn’t control your life? Brazilian CEO Ricardo Semler practices a radical form of corporate democracy, rethinking everything from board meetings to how workers report their vacation days (they don’t have to). It’s a vision that rewards the wisdom of workers, promotes work-life balance — and leads to some deep insight on what work, and life, is really all about. Bonus question: What if schools were like this too? (https://www.ted.com/talks/ricardo_semler_radical_wisdom_for_a_company_a_school_a_life?language=en)

Thursday, August 13, 2015

Edit Distance: Impossible to calculate in linear time?

In Computer Science, Edit Distance is a technique to calculate number of characters required to be add or removed from a string to make equivalent to another string. We can also use this to quantify how differ a string from another string. This has many application including in Bioinformatics to match two DNA strings.

Recently, two scientists, Indyk and Backurs, found that it is impossible to calculate Edit Distance in less than quadratic time. They proved that Edit Distance problem can be solvable in polynomial time if and only if P equal to NP problems.

Source: http://goo.gl/ocdSfk
The complete paper is available here: http://arxiv.org/abs/1412.0348

Friday, February 06, 2015

ہمارے کرنے کے کام!

یہ آنکھ ظاہری بصارت کے لئے ہے اس سے لوگوں کے باطل کے بارے میں فیصلے صادر نہیں کرنے چاہئے۔ کہیں کسی میل کچیل میں کوئی ولی تو کہیں کو اندھیرے میں اللہ کابندہ ۔ تیرا کام تو بس اللہ کے دیے کو بانٹنا ہے چاہے وہ اسکی دی ہوئی مسکراہٹ ہو یا سکا مال یا اسکی صفت "معافی"۔

Monday, January 26, 2015

When change can happen in institutions?

Dr. Irfan Hyder mentioned in comments of his recent post on his blog post "Why Project Based Learning? An Experiential Learning Case Study of Language Teaching" about change management in institutions. I believe this one paragraph is enough to understand how you can make changes at higher level. The full blog post is worthy to read and recommended for everyone; specially those in academia.

  1. You are right no institutional change can happen unless you have a critical mass of "change agents" (technical term). As I mentioned elsewhere, these "change agents" can be found in your subordinates, peers and even superiors. These are the people who are willing to change because they can see that the change will bring for them professional prominence in this job or even in market elsewhere. These are the people to be first identified, stimulated, convinced, and encouraged. Then each of them would start posting "small-wins" (technical term) wherever they are. This brings support to your and their initiatives and slowly and gradually you build up the momentum for change. Soon one of these agents would be put in a position of responsibility because of the new ideas and initiatives that they are promoting. All organizations sooner or later desperately require such people. That, then becomes a catalytic moment.

Tuesday, January 13, 2015

Update: Personal Website

Hello everyone!

Finally, I am able to update my personal website. The earlier version was too old and was loaded with some heavy graphics. This time I stick with minimal and responsive design. The site developed using GetSimpleCMS - a file based content management system. The reason to use file based system is simplicity - CMS like Joomla and Wordpress indulge unwanted complexity which result long learning curve even for simpler tasks. I had to spend sometime to select right theme and then there is need to play bit with templates and style-sheet. 

Visit my page at http://qasimpasta.info - any feedback is welcome.



Tuesday, September 30, 2014

Profession



بحثیت مسلمان ہم سب کا اس بات پر یقین ہے کہ جو رزق لکھ دیا گیا ہے آپ کو وہ ہی ملےگا نہ ایک پائی ذیادہ اور نہ ایک پائی کم - پھر پروفیشن منتخب کرتے وقت کیوں سوچا جائے کہ کس میں ذیادہ پیسے ہیں اور کس میں کم - بلکہ ہیں سوچنا چاہے کہ وہ کیا کام ہے جسے کرنے میں آپ خوشی محسوس کرتے ہیں - جو آپ بغیر کسی معاوضہ کے لیئے کرنا چاہیں گے - یہ وہ ہی کام ہوگا جو آپ کو بلندیوں پر لے کر جائے گا

Tuesday, March 11, 2014

With reference to Al-Qura'an, do we find ourselves some where


 
میں قرآن میں کہاں ہوں
بِسۡمِ اللهِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِيۡمِ
   
مشہور محدث اور امام احمد بن حنبل کے شاگرد رشید شیخ الاسلام ابو عبداللہ محمد بن نصر مروزی بغدادی (202....294ھ) نے اپنی کتاب قیام اللیل میں ایک عبرت انگیز قصہ نقل کیا ہے جس سے اس آیت کے فہم میں مدد ملتی ہے، اور سلف کے فہم قرآن اور تدبر قرآن پر روشنی پڑتی ہے۔
جلیل القدر تابعی اور عرب سردار احنف بن قیس ایک دن بیٹھے ہوئے تھے کہ کسی نے یہ آیت پڑھی:
 
 
لَقَد اَنزَلنَآ اِلَیکُم کِتٰبًا فِیہِ ذِکرُکُم اَفَلاَ تَعقِلُونَ (سورہ الانبیاء۔ ع۔ ١)
ترجمہ) ”ہم نے تمہاری طرف ایسی کتاب نازل کی جس میں تمہارا تذکرہ ہے، کیا تم نہیں سمجھتے ہو“۔
وہ چونک پڑے اور کہا کہ ذرا قرآن مجید تو لانا اس میں، میں اپنا تذکرہ تلاش کروں، اور دیکھوں کہ میں کن لوگوں کے ساتھ ہوں، اور کن سے مجھے مشابہت ہے؟

انہوں نے قرآن مجید کھولا، کچھ لوگوں کے پاس سے ان کا گزر ہوا، جن کی تعریف یہ کی گئی تھی:
کَانُوا قَلِیلاً مِّن اللَّیلِ مَا یَھجَعُونَ O وَبِالاَسحَارِھُم یَستَغفِرُونَ O وَفِی اَموَالِھِم حَقّ لِّلسَّائِلِ وَالمَحرُومِ (الذریٰت۔ ع۔ ١)
ترجمہ) ”رات کے تھوڑے حصے میں سوتے تھے، اور اوقات سحر میں بخشش مانگا کرتے تھے، اور ان کے مال میں مانگنے والے اور نہ مانگنے والے (دونوں) کا حق ہوتا تھا“۔
  
کچھ اور لوگ نظر آئے جن کا حال یہ تھا:
تَتَجَافٰی جُنُوبُھُم عَنِ المَضَاجِعِ یَدعُونَ رَبَّھُم خَوفاً وَّطَمَعًا وَّ مِمَّا رَزَقنٰھُم یُنفِقُونَ (السجدہ۔ ع۔ ٢)
ترجمہ) ”ان کے پہلو بچھونوں سے الگ رہتے ہیں (اور) وہ اپنے پروردگار کو خوف اور اُمید سے پکارتے ہیں۔ اور جو (مال) ہم نے ان کو دیا ہے، اس میں سے خرچ کرتے ہیں“۔

کچھ اور لوگ نظر آئے جن کا حال یہ تھا:
یَبِیتُونَ لِرَبِّھِم سُجَّدًا وَقِیَاماً (الفرقان۔ ع۔ ٦)
ترجمہ) ”اور جو اپنے پروردگار کے آگے سجدہ کرکے اور (عجز وادب سے) کھڑے رہ کر راتیں بسر کرتے ہیں“۔
  
اور کچھ لوگ نظر آئے جن کا تذکرہ اِن الفاظ میں ہے:
اَلَّذِینَ یُنفِقُونَ فِی السَّرَّآئِ وَالضَّرَّآئِ وَالکٰظِمِینَ الغَیظِ وَالعَافِینَ عَنِ النَّاسِ وَاﷲُ یُحِبُّ المُحسِنِینَ (اٰل عمران۔ ع۔ ١٤)
ترجمہ) ”جو آسودگی اور تنگی میں (اپنا مال خدا کی راہ میں) خرچ کرتے ہیں، اور غصہ کو روکتے اور لوگوں کے قصور معاف کرتے ہیں، اور خدا نیکو کاروں کو دوست رکھتا ہے“۔
  
اور کچھ لوگ ملے جن کی حالت یہ تھی:
یُؤثِرُونَ عَلیٰ اَنفُسِھِم وَلَو کَانَ بِھِم خَصَاصَہ ط قف وَمَن یَّوقَ شُحَّ نَفسِہ فَاُولئِکَ ھُمُ المُفلِحُونَ (الحشر۔ ع۔ ١)
ترجمہ) ”(اور) دوسروں کو اپنی جانوں سے مقدم رکھتے ہیں خواہ ان کو خود احتیاج ہی ہو، اور جو شخص حرص نفس سے بچا لیا گیا تو ایسے ہی لوگ مُراد پانے والے ہوتے ہیں“۔
  
اور کچھ لوگوں کی زیارت ہوئی جن کے اخلاق یہ تھے:
وَالَّذِینَ یَجتَنِبُونَ کَبٰئِرَ الاِثمِ وَالفَوَاحِشَ وَاِذَا مَا غَضِبُوا ھُم یَغفِرُونَ (الشوریٰ۔ ع۔ ٤)
ترجمہ) ”اور جو بڑے بڑے گناہوں اور بے حیائی کی باتوں سے پرہیز کرتے ہیں، اور جب غصہ آتا ہے تو معاف کر دیتے ہیں“۔
وَالَّذِینَ استَجَابُوا لِرَبِّھِم وَاَقَامُوا الصَّلوٰہَ ص وَاَمرُھُم شُورٰی بَینَھُم ص وَمِمَّا رَزَقنٰھُم یُنفِقُونَ (الشوریٰ۔ ع۔ ٤)
ترجمہ) ”اور جو اپنے پروردگار کا فرمان قبول کرتے ہیں اور نماز پڑھتے ہیں، اور اپنے کام آپس کے مشورہ سے کرتے ہیں اور جو مال ہم نے ان کو عطا فرمایا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں“۔

وہ یہاں پہونچ کر ٹھٹک کر رہ گئے اور کہا اے اللہ میں اپنے حال سے واقف ہوں، میں تو ان لوگوں میں نظر نہیں آتا!
پھر انہوں نے ایک دوسرا راستہ لیا، اب ان کو کچھ لوگ نظر آئے، جن کا حال یہ تھا:
اِنَّھُم کَانُوا اِذَا قِیلَ لَھُم لاَ اِلٰہَ اِلاَّ اﷲُ یَستَکبِرُونَ Oلا وَیَقُولُونَ ئَ اِنَّا لَتَارِکُوا اٰلِھَتِنَا لِشَاعِرٍ مَّجنُونٍ (سورہ صافات۔ ع۔ ٢)
ترجمہ) ”ان کا یہ حال تھا کہ جب ان سے کہا جاتا تھا کہ خدا کے سوا کوئی معبود نہیں تو غرور کرتے تھے، اور کہتے تھے، کہ بھلا ہم ایک دیوانہ شاعر کے کہنے سے کہیں اپنے معبودوں کو چھوڑ دینے والے ہیں؟
  
پھر اُن لوگوں کا سامنا ہوا جن کی حالت یہ تھی:
وَاِذَا ذُکِرَ اﷲُ وَحدَہُ اشمَاَرَّتُ قُلُوبُ الَّذِینَ لاَ یُؤمِنُونَ بِالاٰخِرَہِ ج وَاِذَا ذُکِرَ الَّذِینَ مِن دُونِہ اِذَا ھُم یَستَبشِرُونَ (الزمر۔ ع۔ ٥)
ترجمہ) ”اور جب تنہا خدا کا ذکر کیا جاتا ہے تو جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے انکے دل منقبض ہو جاتے ہیں، اور جب اس کے سوا اوروں کا ذکر کیا جاتا ہے تو اُن کے چہرے کھل اُٹھتے ہیں“۔

کچھ اور لوگوں کے پاس سے گزر ہوا جن سے جب پوچھا گیا:
مَا سَلَکَکُم فِی سَقَرَ O قَالُوا لَم نَکَ مِنَ المُصَلِّینَ O وَلَم نَکُ نُطعِمُ المِسکِینَ O وَکُنَّا نَخُوضُ مَعَ الخَآئِضِینَ O وَکُنَّا نُکَذِّبُ بِیَومِ الدِّینِ O حَتّٰی اَتٰنَا الیَقِینَ (المدثر۔ ع۔ ٢)
ترجمہ) ”کہ تم دوزخ میں کیوں پڑے؟ وہ جواب دیں گے کہ ہم نماز نہیں پڑھتے تھے اور نہ فقیروں کو کھانا کھلاتے تھے اور ہم جھوٹ سچ باتیں بنانے والوں کے ساتھ باتیں بنایا کرتے اور روز جزا کو جھوٹ قرار دیتے تھے، یہاں تک کہ ہمیں اس یقینی چیز سے سابقہ پیش آگیا“۔
  
یہاں بھی پہونچ کر وہ تھوڑی دیر کے لئے دم بخود کھڑے رہے پھر کانوں پر ہاتھ رکھ کر کہا، اے اللہ! ان لوگوں سے تیری پناہ! میں ان لوگوںسے بری ہوں۔
اب وہ قرآن مجید کے ورقوں کوا ُلٹ رہے تھے، اور اپنا تذکرہ تلاش کر رہے تھے، یہاں تک کہ اس آیت پر جا کر ٹھہرے:
وَاٰخِرُونَ اعتَرَفُوا بِذُنُوبِھِم خَلَطُوا عَمَلاً صَالِحًا وَّ اٰخَرَ سَیِّئًا عَسَی اﷲُ اَن یَّتُوبَ عَلَیھِم ط اِنَّ اﷲُ غَفُور رَّحِیم (التوبہ۔ ع۔ ١٣)
ترجمہ) ”اور کچھ اور لوگ ہیں جن کو اپنے گناہوں کا (صاف) اقرار ہے، انہوں نے اچھے اور برے عملوں کو ملا جلا دیا تھا قریب ہے کہ خدا ان پرمہربان

Friday, December 13, 2013

Project Idea: Generation of pseudo code

Can we generate pseudo code from a given C#/C++ program? Usually, it is difficult to understand a code after long time when you wrote actual code.

Thursday, November 28, 2013

Student Corner: Tips for your resume

1. I feel now there is no more need of objective until or unless your objective is tightly align with the organization's mission.
2. Degrees should be in chronicle order. Your potential employer is interested to see your latest degree first. Years of passing is also important factor for employer. 
3. You need to find a more standard way to define your work experience. See some examples on internet. It is important to mention your designation and job responsibilities.
4. Do you really think CSS is a language? or even Photoshop? or C# is synonym of Visual Studio? or you need to mention C# and .Net as separate skills? Moral: Such things are always debatable and everyone has his or her version. Try to avoid such confusion in your resume (try to find resume of experience people)
5. Mention your FYP as separate heading and immediately after experience.
6. Only include very good and attractive course projects which you really want to let them know. don't mention ordinary course projects, if any.

Tuesday, November 19, 2013

Dijkstra's Three Golden Rules for Scientific Research

In one of his writing Sir Dijkstra defined three rules for successful scientific research. Being a research student for last few years I found these three rules are perfect to shape your research. First rule is for say NO to shortcuts; don't go for publication but to raise your standard. Second, go for something that enhance circle of knowledge! Third, there is no end of world; find and explore topics suite best for you. You can find original article at http://www.cs.utexas.edu/~EWD/ewd06xx/EWD637.PDF

Raise your standard!
"Raise your quality standards as high as you can live with, avoid wasting your time on routine problems, and always try to work as closely as possible at the boundary of your abilities. Do this, because it is the only way of discovering how that boundary should be moved forward."
Prefer scientific soundness
"We all like our work to be socially relevant and scientifically sound. If we can find a topic satisfying both desires, we are lucky; if the two targets are in conflict with each other, let the requirement of scientific soundness prevail."
Never compete with colleagues
"Never tackle a problem of which you can be pretty sure that (now or in the near future) it will be tackled by others who are, in relation to that problem, at least as competent and well-equipped as you."