Tuesday, December 20, 2016

صحت

حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ایک بار اللہ تعالیٰ سے پوچھا’’ یا باری تعالیٰ انسان آپ کی نعمتوں میں سے کوئی ایک نعمت مانگےتو کیا مانگے؟‘‘اللہ تعالیٰ نے فرمایا ’’صحت‘‘۔میں نے یہ واقعہ پڑھا تو میں گنگ ہو کر رہ گیا‘صحت اللہ تعالیٰ کا حقیقتاً بہت بڑا تحفہ ہے اور قدرت نے جتنی محبت اور منصوبہ بندی انسان کو صحت مند رکھنے کے لیے کی اتنی شاید پوری کائنات بنانے کے لیے نہیں کی-
ہمارے جسم کے اندر ایسے ایسے نظام موجود ہیں کہ ہم جب ان پر غور کرتے ہیں تو عقل حیران رہ جاتی ہے۔ہم میں سے ہر شخص ساڑھے چار ہزار بیماریاں ساتھ لے کر پیدا ہوتا ہے۔ یہ بیماریاں ہر وقت سرگرم عمل رہتی ہیں‘ مگر ہماری قوت مدافعت‘ ہمارے جسم کے نظام ان کی ہلاکت آفرینیوں کو کنٹرول کرتے رہتے ہیں‘
مثلاً ہمارا منہ روزانہ ایسے جراثیم پیدا کرتا ہے جو ہمارےدل کو کمزور کر دیتے ہیں مگر ہم جب تیز چلتے ہیں‘ جاگنگ کرتے ہیں یا واک کرتے ہیں تو ہمارا منہ کھل جاتا ہے‘ ہم تیز تیز سانس لیتے ہیں‘ یہ تیز تیز سانسیں ان جراثیم کو مار دیتی ہیں اور یوں ہمارا دل ان جراثیموں سے بچ جاتا ہے‘
مثلاً دنیا کا پہلا بائی پاس مئی 1960ء میں ہوا مگر قدرت نے اس بائی پاس میں استعمال ہونے والی نالی لاکھوں‘ کروڑوں سال قبل ہماری پنڈلی میں رکھ دی‘ یہ نالی نہ ہوتی تو شاید دل کا بائی پاس ممکن نہ ہوتا‘مثلاً گردوں کی ٹرانسپلانٹیشن 17 جون 1950ء میں شروع ہوئی مگر قدرت نے کروڑوں سال قبل ہمارے دو گردوں کے درمیان ایسی جگہ رکھ دی جہاں تیسرا گردہ فٹ ہو جاتا ہے‘
ہماری پسلیوں میں چند انتہائی چھوٹی چھوٹی ہڈیاں ہیں۔یہ ہڈیاں ہمیشہ فالتو سمجھی جاتی تھیں مگر آج پتہ چلا دنیا میں چند ایسے بچے پیدا ہوتے ہیں جن کے نرخرے جڑےہوتے ہیں- یہ بچے اس عارضے کی وجہ سے نه اپنی گردن سیدھی کر سکتے ہیں‘ نه نگل سکتے ہیں اور نہ ہی عام بچوں کی طرح بول سکتے ہیں-سرجنوں نے جب ان بچوں کے نرخروں اور پسلی کی فالتو ہڈیوں کا تجزیہ کیا تو معلوم ہوا پسلی کی یہ فالتو ہڈیاں اور نرخرے کی ہڈی ایک جیسی ہیں چنانچہ سرجنوں نے پسلی کی چھوٹی ہڈیاں کاٹ کر حلق میں فٹ کر دیں اور یوں یہ معذور بچے نارمل زندگی گزارنے لگے‘
مثلاً ہمارا جگرجسم کا واحد عضو ہے جو کٹنے کے بعد دوبارہ پیدا ہو جاتا ہے‘ ہماری انگلی کٹ جائے‘ بازو الگ ہو جائے یا جسم کا کوئی دوسرا حصہ کٹ جائے تو یہ دوبارہ نہیں اگتا جب کہ جگر واحد عضو ہے جو کٹنے کے بعد دوبارہ اگ جاتا ہے‘سائنس دان حیران تھے قدرت نے جگر میں یہ اہلیت کیوں رکھی؟ آج پتہ چلا جگر عضو رئیس ہے‘ اس کے بغیر زندگی ممکن نہیں اور اس کی اس اہلیت کی وجہ سے یہ ٹرانسپلانٹ ہو سکتا ہے‘ آپ دوسروں کو جگر ڈونیٹ کر سکتے ہیں‘ یہ قدرت کے چند ایسے معجزے ہیں جو انسان کی عقل کو حیران کر دیتے ہیں جب کہ ہمارے بدن میں ایسےہزاروں معجزے چھپے پڑے ہیں اور یہ معجزے ہمیں صحت مند رکھتے ہیں۔
ہم روزانہ سوتے ہیں‘ ہماری نیند موت کا ٹریلر ہوتی ہے‘ انسان کی اونگھ‘ نیند‘ گہری نیند‘ بے ہوشی اور موت پانچوں ایک ہی سلسلے کے مختلف مراحل ہیں‘ ہم جب گہری نیند میں جاتے ہیں تو ہم اور موت کے درمیان صرف بے ہوشی کا ایک مرحلہ رہ جاتا ہے‘ ہم روز صبح موت کی دہلیز سے واپس آتے ہیں مگر ہمیں احساس تک نہیں ہوتا‘صحت دنیا کی ان چند نعمتوں میں شمار ہوتی ہے یہ جب تک قائم رہتی ہے ہمیں اس کی قدر نہیں ہوتی مگر جوں ہی یہ ہمارا ساتھ چھوڑتی ہے‘ ہمیں فوراً احساس ہوتا ہے یہ ہماری دیگر تمام نعمتوں سے کہیں زیادہ قیمتی تھی‘
ہم اگر کسی دن میز پر بیٹھ جائیں اور سر کے بالوں سے لے کر پاؤں کی انگلیوں تک صحت کاتخمینہ لگائیں تو ہمیں معلوم ہو گا ہم میں سے ہر شخص ارب پتی ہے‘ہماری پلکوں میں چند مسل ہوتے ہیں۔یہ مسل ہماری پلکوں کو اٹھاتے اور گراتے ہیں‘ اگر یہ مسل جواب دے جائیں تو انسان پلکیں نہیں کھول سکتا‘ دنیا میں اس مرض کا کوئی علاج نہیں‘دنیا کے 50 امیر ترین لوگ اس وقت اس مرض میں مبتلا ہیں اور یہ صرف اپنی پلک اٹھانے کے لیے دنیا بھر کے سرجنوں اور ڈاکٹروں کو کروڑوں ڈالر دینے کے لیےتیار ہیں‘ہمارے کانوں میں کبوتر کے آنسوکے برابر مائع ہوتا ہے‘ یہ پارے کی قسم کا ایک لیکوڈ ہے‘ ہم اس مائع کی وجہ سے سیدھا چلتے ہیں‘ یہ اگر ضائع ہو جائے تو ہم سمت کا تعین نہیں کر پاتے‘ ہم چلتے ہوئے چیزوں سے الجھنا اور ٹکرانا شروع کر دیتے ہیں ‘
لوگ صحت مند گردے کے لیے تیس چالیس لاکھ روپے دینے کے لیے تیار ہیں‘
آنکھوں کاقرنیا لاکھوں روپے میں بکتا ہے‘
دل کی قیمت لاکھوں کروڑوں میں چلی جاتی ہے‘
آپ کی ایڑی میں درد ہو تو آپ اس درد سے چھٹکارے کے لیے لاکھوں روپے دینے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں‘
دنیا کے لاکھوں امیر لوگ کمر درد کا شکار ہیں۔گردن کے مہروں کی خرابی انسان کی زندگی کو اجیرن کر دیتی ہے‘ انگلیوں کے جوڑوں میں نمک جمع ہو جائے تو انسان موت کی دعائیں مانگنے لگتا ہے‘
قبض اور بواسیر نے لاکھوں کروڑوں لوگوں کی مت مار دی ہے‘
دانت اور داڑھ کا درد راتوں کو بے چین بنا دیتا ہے‘
آدھے سر کا درد ہزاروں لوگوں کو پاگل بنا رہا ہے‘
شوگر‘ کولیسٹرول اور بلڈ پریشر کی ادویات بنانے والی کمپنیاں ہر سال اربوں ڈالر کماتی ہیں
اور آپ اگر خدانخواستہ کسی جلدی مرض کا شکار ہو گئے ہیں تو آپ جیب میں لاکھوں روپے ڈال کر پھریں گے مگرآپ کو شفا نہیں ملے گی‘
منہ کی بدبو بظاہر معمولی مسئلہ ہے مگر لاکھوں لوگ ہر سال اس پر اربوں روپے خرچ کرتے ہیں‘ ہمارا معدہ بعض اوقات کوئی خاص تیزاب پیدا نہیں کرتا اور ہم نعمتوں سے بھری اس دنیا میں بے نعمت ہو کر رہ جاتے ہیں۔
ہماری صحت اللہ تعالیٰ کا خصوصی کرم ہے مگر ہم لوگ روز اس نعمت کی بے حرمتی کرتے ہیں‘
ہم اس عظیم مہربانی پراللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہیں کرتے‘ ہم اگر روز اپنے بستر سے اٹھتے ہیں‘ ہم جو چاہتے ہیں ہم وہ کھا لیتے ہیں اور یہ کھایا ہوا ہضم ہو جاتا ہے‘ ہم سیدھا چل سکتے ہیں‘ دوڑ لگا سکتے ہیں‘ جھک سکتے ہیں اور ہمارا دل‘ دماغ‘ جگر اور گردے ٹھیک کام کر رہے ہیں‘ ہم آنکھوں سے دیکھ‘ کانوں سے سن‘ ہاتھوں سے چھو‘ ناک سے سونگھ اور منہ سے چکھ سکتے ہیںتو پھر ہم سب اللہ تعالیٰ کے فضل‘ اس کے کرم کے قرض دار ہیں اور ہمیں اس عظیم مہربانی پر اپنے اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے کیونکہ صحت وہ نعمت ہے جو اگر چھن جائے تو ہم پوری دنیا کے خزانے خرچ کر کے بھی یہ نعمت واپس نہیں لے سکتے‘ہم اپنی ریڑھ کی ہڈی سیدھی نہیں کر سکتے۔ یا اللہ تیرا لاکھ لاکھ شکر ہے۔اسی لئیے ربِ کریم قرآن میں کہتے ہیں…..اور تم اپنے رب کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے..

تو ادھر اُدھر کی بات نہ کر

تو ادھر اُدھر کی بات نہ کر

یہ بتا کہ قافلہ کیوں لٹا ہے

مجھے راہزنوں سے گلہ نہیں


تیری راہبری کا سوال ہے

Monday, October 31, 2016

کچھ رد عمل

ترکهان دکان بند کر کے گهر گیا تو کہیں سے گهومتا پهرتا ایک سیاہ کوبرا ناگ اس کی ورکشاپ میں گهس آیا. یہاں بظاہر تو ناگ کی دلچسپی کی کوئی چیز نہیں تهی پهر بهی ادهر سے ادهر اور اوپر سے نیچے جائزہ لیتا پهر رہا تها کہ اس کا دهڑ وہاں پڑی ایک آری سے ٹکرا کر بہت معمولی سا زخمی ہو گیا.
گهبراہٹ میں ناگ نے پلٹ کر آری پر پوری قوت سے ڈنگ مارا. فولادی آری پر زور سے لگے ڈنگ نے آری کا کیا بگاڑنا تها الٹا ناگ کے منہ سے خون بہنا شروع ہو گیا. اس بار خشونت اور تکبر میں ناگ نے اپنی سوچ کے مطابق آری کے گرد لپٹ کر، اسے جکڑ کر اور دم گهونٹ کر مارنے کی پوری کوشش کر ڈالی.
دوسرے دن جب ترکهان نے ورکشاپ کهولی تو ایک ناگ کو آری کے گرد لپٹے مردہ پایا جو کسی اور وجہ سے نہیں محض اپنی طیش اور غصے کی بهینٹ چڑھ گیا تها.
بعض اوقات غصے میں ہم دوسروں کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں، مگر وقت گزرنے کے بعد ہمیں پتہ چلتا ہے کہ ہم نے اپنے آپ کا زیادہ نقصان کیا ہے.
اچهی زندگی کیلئے بعض اوقات ہمیں
کچھ چیزوں کو
کچھ لوگوں کو
کچھ حوادث کو
کچھ کاموں کو
کچھ باتوں کو
نظر انداز کرنا چاہیئے.
اپنے آپ کو ذہانت کے ساتھ نظر انداز کرنے کا عادی بنائیے، ضروری نہیں کہ ہم ہر عمل کا ایک رد عمل دکهائیں. ہمارے کچھ رد عمل ہمیں محض نقصان ہی نہیں دیں گے بلکہ ہو سکتا ہے کہ ہماری جان بهی لے لیں.

Sunday, October 30, 2016

کتے اور بھوربن


سیٹھ ''بھولا بھالا'' کی انکم ٹیکس ریٹرن پڑھتے ہوئے اچانک میں چونک گیا، جس پر لکھا تھا'' کتوں کا کھانا 75000 روپے''۔ تین دن کی مغز ماری کے بعد یہ پہلا نکتہ تھا جس پر میں نے سیٹھ جی کی ٹیکس چوری پکڑ ہی لی، نہ جانے لوگ ٹیکس بچانے کے لیئے کیسے کیسے ہتھکنڈے استعمال کرتے ہیں؟ اللہ معاف فرمائے۔  اب میں دیکھتا ہوں کہ یہ ٹیکس چور مجھ سے کیسے بچ پاتا ہے؟  چنانچہ اگلے ہی دن میں نے انہیں اپنے دفتر میں طلب کرلیا،

سیٹھ صاحب تشریف لائے تو میں نے انہیں ٹیکس کی اہمیت، ملک و قوم کے لیئے اسکی ضرورت اور ایمانداری کے موضوع پر ایک سیر حاصل لیکچر پلا دیا، وہ خاموشی سے سنتا رہا، نہ ہوں نہ ہاں، مجھے اسکا رویہ دیکھ کر مزید غصہ آگیا اور اسے کتوں کے کھانے کے بارے میں بتا کر مزید شرمندہ کرنے کی کوشش کی اور ناکام رہا،

آخر کار میں خاموش ہوکر سیٹھ بھولا بھالا کی طرف دیکھنے لگا، وہ مسکرایا اور کہنے لگا،، صاحب،، آپ افسر ہو حکم کرو ہم کیا کر سکتے ہیں آپکے لیئے؟،،،

میں زیر لب مسکرایا کہ اب اونٹ پہاڑ کے نیچے آگیا ہے، چنانچہ میں نے نہائت عیاری کے ساتھ مسکراتے ہوئے کہا،،،، سیٹھ جی،، کیا آپ ایک ''ذمہ دار'' انکم ٹیکس آفیسر کو رشوت کی پیش کش کررہے ہیں؟

ارے نہیں صاحب میں نے کب کہا کہ میں رشوت دوں گا؟
میں نے زندگی میں آج تک رشوت نہیں دی بلکہ کارباری ڈیلیں کی ہیں، آپ بھی اسے ایک بزنس ڈیل سمجھ سکتے ہیں،

وہ کیسے سیٹھ جی،،، میں نے پوچھا،،
سیٹھ نے ہولے سے مسکراتے ہوئے کہا کہ اس مرتبہ گرمیوں کی چھٹیوں میں بھابی اور بچوں کے لیئے میری طرف سے بھوربن مری میں سیر اور شاپنگ کا ''پیکیج'' قبول فرمائیں تمام خرچ میرے ذمہ ہوگا اور اس عرصہ میں ایک گاڑی بھی انکے استعمال میں رہے گی جسکا انتظام بھی میں ہی کروں گا،

تھوڑی سی رد و قدح کے بعد میں نے اس پیکیج کی منطوری دے دی اور سیٹھ کے جاتے ہی بیگم کو فون کرکے اس ڈیل کے بارے میں بتایا،

ایک سال کا وقت گزر گیا اور میں بھی سیٹھ بھولا بھالا کو بھول گیا، آخر ایک دن سیٹھ کی انکم ٹیکس ریٹرن پھر میری میز پر تھی،،،

میں نے غور سے اسے پڑھا تو ایک صفحے پر لکھا تھا،،،

''کتوں کو بھوربن کی سیر کروائی'' خرچ ایک لاکھ۔۔۔

مجھے یوں لگا کہ میرا سر گھوم رہا ہے اور ائیر کنڈیشنڈ فل اسپیڈ پر چلنے کے باوجود میرا جسم پسینے میں نہا گیا ہے، میں نے چپڑاسی کو بلا کر ایک گلاس ٹھندا پانی منگوایا اور ایک ہی سانس میں اسے خالی کردیا،

تحریر: محسن رفیق مرحوم

Monday, October 24, 2016

Time Zone

New York is 3 hrs ahead of California but it does not mean that California is slow, or that New York is fast. Both are  working based on their own "Time Zone."
Some one is still single. Someone got married and 'waited' 10 yrs before having a child, there is another who had a baby within a year of marriage.

Someone graduated at the age of 22, yet waited 5 years before securing a good job; and there is another who graduated at 27 and secured employment immediately !

Someone became CEO at 25 and died at 50 while another became a CEO at 50 and lived to 90 years.

Everyone works based on their 'Time Zone',

People can have things worked out only according to their pace.
Work in your “time zone”.

Your Colleagues, friends, younger ones might "seem" to go ahead of you.
May be some might "seem" behind you.

Don't envy them or mock them, it's their 'Time Zone.'
You are in yours!

Hold on, be strong, and stay true to yourself. All things shall work together for your good. You’re not late … You are not early ... you’re very much On time!😊👍stay blessed.
You Are In Your Own Time Zone....🌐

Tuesday, October 18, 2016

Confidence vs Fear

When confidence is high, then fear goes to low 


Source:  https://goo.gl/images/g8upDV

Saturday, October 15, 2016

Samoosa Vala

In Delhi, there was a Samosa vendor. His shop was in front of a Big company. His Samosa was so tasty.! Most of the employees use to eat that samosa at lunch time.
One day, a Manager came to that samosa wala. while he was eating samosa he comes in the fun mood.
he asks a question – Yaar you have maintained your shop so nicely.
you have good management skills. don’t you think that you are wasting your talent and time by selling just Samosas?
Think, if you were working like me in any big company. you would have been a manager like me isn’t ?
Poor samosa wala… he smiled at the manager and said awesome lines.
Sir, I thought my work is better than your work. do u know why?
10 years back I used to sell samosa in tokari (Leaf basket). At same time you got this job. That time I was earning Rs. 1,000 in a month and your salary was 10K.
In this 10 years of journey, we did progress a lot.
I owned a shop and became famous samosa-wala in this area and you became a manager.
Now you are earning Rs. 1 lakh while I am earning the same and sometimes more than you. So surely, I can say that my work is better than yours.
it’s because of my kids future.
Let me explain –
Please pay close attention to my word. I started my career at lowest income. my son doesn’t have to suffer the same. One day my son will take over my business. He doesn’t have to start from 0. He will get fully established business, but in your case, the benefits will be taken by your boss kids, not by your kids.
you can not offer your same post to your son /daughter. They have to start from 0. Whatever you have suffered 10 years ago, your kids have to suffer the same.
My son will extend my business from now and when your kid will be manager my son will be far away.
Now tell me who is wasting the Talent and Time.
Manager gave Rs.50 for two samosa’s and he didn’t speak any word and left.
Good Lesson to become Entrepreneur

Friday, October 14, 2016

جہاں تک کام چلتا ہو غذا سے

یہ نظم آج سے پچاس سال قبل راندھیر (بھارت) کے ایک حکیم صاحب نے کہی تھی ، جو شاعر بھی تھے...

جہاں تک کام چلتا ہو غذا سے
وہاں تک چاہیے بچنا دوا سے

اگر خوں کم بنے، بلغم زیادہ
تو کھا گاجر، چنے ، شلغم زیادہ

جگر کے بل پہ ہے انسان جیتا
اگر ضعف جگر ہے کھا پپیتا

جگر میں ہو اگر گرمی کا احساس
مربّہ آملہ کھا یا انناس

اگر ہوتی ہے معدہ میں گرانی
تو پی لی سونف یا ادرک کا پانی

تھکن سے ہوں اگر عضلات ڈھیلے
تو فوراََ دودھ گرما گرم پی لے

جو دکھتا ہو گلا نزلے کے مارے
تو کر نمکین پانی کے غرارے

اگر ہو درد سے دانتوں کے بے کل
تو انگلی سے مسوڑوں پر نمک مَل

جو طاقت میں کمی ہوتی ہو محسوس
تو مصری کی ڈلی ملتان کی چوس

شفا چاہیے اگر کھانسی سے جلدی
تو پی لے دودھ میں تھوڑی سی ہلدی

اگر کانوں میں تکلیف ہووے
تو سرسوں کا تیل پھائے سے نچوڑے

اگر آنکھوں میں پڑ جاتے ہوں جالے
تو دکھنی مرچ گھی کے ساتھ کھا لے

تپ دق سے اگر چاہیے رہائی
بدل پانی کے گّنا چوس بھائی

دمہ میں یہ غذا بے شک ہے اچھی
کھٹائی چھوڑ کھا دریا کی مچھلی

اگر تجھ کو لگے جاڑے میں سردی
تو استعمال کر انڈے کی زردی

جو بد ہضمی میں تو چاہے افاقہ
تو دو اِک وقت کا کر لے تو فاقہ

Monday, October 10, 2016

What is Audit?

Once upon a time there was a shepherd looking after his sheep on the side of a deserted road. Suddenly a brand new Porsche screeches to a halt. The driver, a man dressed in an Armani suit,
Cerutti shoes, Ray-Ban sunglasses, TAG-Heuer wrist watch, and a Pierre Cardin tie gets out and asks the shepherd, 'If I can tell you how many sheep you have, will you give me one of them?'

The shepherd looks at
the young man, then looks at the large flock of grazing sheep and replies, 'Okay.'The young man parks the car, connects his laptop to the mobile-fax, enters a NASA Website, scans the ground using his GPS, opens a database and 60 Excel tables filled with algorithms and pivot tables. He then prints out a 150-page report on his high-tech
mini-printer, turns to the shepherd and says, ‘'You have exactly 1,586 sheep.'.            The shepherd cheers, 'That's correct, you can have your sheep. 'The young man takes one of the animals from the flock and puts it in the back of his Porsche.

The shepherd looks at him and asks, 'If I guess your profession, will you return my animal to me?' The young
man answers, 'Yes, why not?' The shepherd says, 'You are an auditor.'
'How did you know?' asks the young man. 'Very simple,' answers the shepherd.'Firstly, you came here without being wanted. Secondly, you charged me a fee to tell me something I already knew. Thirdly, you don't understand anything about my business.....Now can I have my DOG back?

Saturday, October 08, 2016

Live Your Life Before Life Becomes Lifeless

A boat is docked in a tiny Mexican fishing village.

A tourist complimented the  local fishermen on the quality of their fish and asked how long it took to catch them. 

"Not very long." they answered in unison.

"Why didn't you stay out longer and catch more?"

The fishermen explained that their small catches were sufficient to meet their needs and those of their families. 

"But what do you do with the rest of your time?"

"We sleep late, fish a little, play with our children, and take siestas with our wives.  In the evenings, we go into the village to see our friends, have a few drinks, play the guitar, and sing a few songs.  

We have a full life."
The tourist interrupted, 

"I have an MBA from Harvard and I can help you!
You should start by fishing longer every day.
You can then sell the extra fish you catch.
With the extra revenue, you can buy a bigger boat."

"And after that?"

"With the extra money the larger boat will bring, you can buy a second one and a third one and so on until you have an entire fleet of trawlers.
Instead of selling your fish to a middle man, you can then negotiate directly with the processing plants and maybe even open your own plant. 

You can then leave this little village and move to  Mexico City , Los Angeles , or even  New York City ! 

From there you can direct your huge new enterprise."

"How long would that take?"  

"Twenty, perhaps twenty-five years." replied the tourist.  

"And after that?"   

"Afterwards?  Well my friend, that's when it gets really interesting," answered the tourist, laughing.  "When your business gets really big, you can start buying and selling stocks and make millions!"     

"Millions?  Really?  And after that?" asked the fishermen. 

"After that you'll be able to retire, live in a tiny village near the coast, sleep late, play with your children, catch a few fish, take a siesta with your wife and spend your evenings drinking and enjoying your friends."

"With all due respect sir, but that's exactly what we are doing now.  So what's the point wasting twenty-five years?" asked the Mexicans. 

Moral of the Story : 

Know where you're going in life, you may already be there!  Many times in life, money is not everything.

Wednesday, October 05, 2016

Keep smiling

An Old man has 8 hair on his head.

He went to the Barber shop.
 
Barber in anger asked:

shall i cut or count?

Old man smiled and said:

"Colour it!"

LIFE is to enjoy with whatever you have with you, keep smiling.

Monday, October 03, 2016

گوگل کے چیف ایکزیکٹیو "سندرراجن پچائی" ہیں

As received:

اس وقت گوگل کے چیف ایکزیکٹیو "سندرراجن پچائی" ہیں ۔ جن کا تعلق بھارت سے ہے۔ ان کی سالانہ تنخواہ پاکستانی روپے میں 2 ارب روپے سے زائد بنتی ہے۔ جو کہ اس وقت دنیا میں سب سے زیادہ تنخواہ لینے والے ملازم بھی ہیں ۔ آئیے ان کے بارے میں دوستوں کو کچھ معلومات فراہم کرتے ہیں۔کہ ایک دو کمروں کے گھر میں چٹائی پر بیٹھ کر پڑھنے والا شخص کس طرح گوگل کا سی ای او بنا ۔

سندر پچائی تامل ناڈو کے شہر مدورائی کا رہنے والا تھا جو کہ 12 جولائی 1972 کا پیدا ہوا۔اس نے غربت میں آنکھ کھولی‘ والد رگوناتھ پچائی الیکٹریکل انجینئر تھا لیکن خاندان کی آمدنی بہت محدود تھی‘ گھر دو کمروں کا فلیٹ تھا‘ اس فلیٹ میں اس کا ٹھکانہ ڈرائنگ روم کا فرش تھا‘ وہ فرش پر چٹائی بچھا کر بیٹھ جاتا تھا‘ وہ پڑھتے پڑھتے تھک جاتا تھا تو وہ سرہانے سے ٹیک لگا کر فرش پر ہی سو جاتا تھا‘ ماں کے ساتھ مارکیٹ سے سودا لانا‘ گلی کے نلکے سے پانی بھرنا‘ تار سے سوکھے کپڑے اتارنا اور گلی میں کرکٹ کھیلنے والے بچوں کو بھگانا بھی اس کی ذمہ داری تھی‘ گھر کی مرغیوں اور ان کے انڈوں کو دشمن کی نظروں سے بچانا بھی اس کی ڈیوٹی تھی اور شہر بھر میں کون سی چیز کس جگہ سے سستی ملتی ہے‘ یہ تلاش بھی اس کا فرض تھا اور باپ اور ماں دونوں کی جھڑکیاں کھانا بھی اس کی ذمہ داری تھی‘ وہ بارہ سال کا تھا جب ان کے گھر ٹیلی فون لگا‘ اس فون نے اس کا کام بڑھا دیا‘ وہ فلیٹس کے اس پورے بلاک کا پیغام بر بن گیا‘ لوگ اس کے گھر فون کر کے بلاک کے دوسرے فلیٹس کےلئے پیغام چھوڑتے تھے اور وہ یہ پیغام پہنچانے کےلئے اٹھ کر دوڑ پڑتا تھا‘ وہ جوانی تک ٹیلی ویژن اور گاڑی کی نعمت سے بھی محروم رہا‘ اس کا والد پوری زندگی کار نہیں خرید سکا لیکن آج وہ نہ صرف دنیا کی سب سے بڑی آرگنائزیشن گوگل کا سی ای او تھا بلکہ وہ دنیا میں سب سے زیادہ تنخواہ لینے والا ملازم بھی تھا‘ اس کی سالانہ تنخواہ 20 کروڑ ڈالر طے ہو چکی تھی۔
بچپن میں وہ سال سال بھر دوسرے جوتے‘ تیسری شرٹ اور چوتھے پین کےلئے ترستا رہتا تھا‘ وہ بچپن‘ بچپن نہیں تھا‘ وہ محرومی کی ایک سیاہ داستان تھی‘ پچائی کو آج بھی یاد تھا جب سٹینڈ فورڈ یونیورسٹی نے اسے ہوائی ٹکٹ بھجوایا تو اس کا والد ٹکٹ دیکھ کر حیران رہ گیا‘ وہ ٹکٹ اس کے والد کی سالانہ آمدنی سے بھی مہنگا تھا‘ اسے آج تک یہ بھی یاد تھا وہ کورس کی کتابیں مانگ کر پڑھتا تھا اور اپنی اسائنمنٹس ردی کے کاغذوں پر مکمل کرتا تھا‘ وہ بسوں کے ساتھ لٹک کر سفر کرتا تھا اور اسے صرف مذہبی تہواروں پر مٹھائی نصیب ہوتی تھی‘اس نے گھسٹ گھسٹ کر چنائے سے بارہویں جماعت پاس کی‘ وہ اس کے بعد انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی خراگپور چلا گیا‘ اس نے وہاں ٹیوشنز پڑھا پڑھا کر میٹالرجیکل انجینئرنگ کی ڈگری لی‘ اس نے یہ ڈگری ٹاپ پوزیشن میں حاصل کی تھی چنانچہ دنیا میں ٹیکنالوجی کی سب سے بڑی یونیورسٹی سٹینڈفورڈ نے اسے وظیفہ دے دیا‘ وہ امریکا چلا گیا‘ اس نے سٹینڈفورڈ یونیورسٹی سے میٹالرجیکل انجینئرنگ میں ایم ایس کیا‘ وہ انجینئرنگ سے بڑا کام کرنا چاہتا تھا‘ 2004ءمیں جب گوگل میں نوکریاں نکلیں تو اس نے اپلائی کر دیا‘ گوگل نے اسے پراجیکٹ مینجمنٹ ڈیپارٹمنٹ میں ملازمت دے دی‘ یہ ملازمت اس کےلئے نعمت ثابت ہوئی‘ سندر راجن پچائی اس یونٹ کا حصہ تھا جس نے ”گوگل کروم“ کا منصوبہ شروع کیا‘ یہ منصوبہ 2008ءمیں مکمل ہوا اور اس کے ساتھ ہی پچائی گوگل اور امریکا دونوں میں مشہور ہو گیا‘ اس کا دماغ ذرخیز تھا چنانچہ وہ گوگل کےلئے نئے نئے منصوبے بناتا رہا‘ گوگل کا ویب براؤزر ہو‘ اینڈروئڈ ہو یا گوگل ٹول بار‘ ڈیسک ٹاپ سرچ اور گوگل گیئرز یہ تمام پراجیکٹ سندر راجن پچائی نے مکمل کئے‘ ان منصوبوں سے گوگل کی آمدنی میں اضافہ ہوا‘ گوگل اس وقت دنیا کی امیر ترین کمپنی ہے‘ اس کی مالیت 554 ارب ڈالر ہو چکی ہے جبکہ اس کی سالانہ آمدنی 74 بلین ڈالر ہے‘ پاکستان کے کل غیرملکی قرضے 70 بلین ڈالر ہیں‘ گویا گوگل ایک سال میں دنیا کی واحد اسلامی جوہری طاقت کے کل قرضوں سے زیادہ رقم کماتا ہے‘ یہ کمپنی سٹینڈفورڈ یونیورسٹی کے دو طالب علموں لیری پیج اور سرجے برن نے 1996ءمیں شروع کی‘ یہ دونوں اس وقت پی ایچ ڈی کے طالب علم تھے‘ گوگل کا مقصد انٹرنیٹ پر موجود مواد کو درجوں میں تقسیم کرنا اور اسے لوگوں کےلئے آسان بنانا تھا‘ گوگل 2000ءتک دنیا کا معتبر ترین سرچ انجن بن گیا‘ یہ کمپنی دنیا بھر سے نیا ٹیلنٹ تلاش کرتی رہتی ہے‘ سندر راجن پچائی بھی اس کی دریافت تھا‘ یہ نوجوان 1972ءمیں تامل ناڈو میں پیدا ہوا‘ یہ 1993ءمیں سٹینڈفورڈ یونیورسٹی پہنچا‘ 1995-96ءمیں ایم ایس اور 2002ءمیں ایم بی اے کیا‘ یہ زندگی میں بہت کچھ کرنا چاہتا تھا اور گوگل نے اسے یہ بہت کچھ کرنے کا موقع دے دیا‘ یہ اپنے دلچسپ آئیڈیاز کے ذریعے بہت جلد کمپنی میں اپنی جگہ بنا گیا‘ یہ تیزی سے ترقی کرتے ہوئے 10 اگست 2015ءکو گوگل کا سی ای او اور لیری پیج کا نائب بن گیا‘ کمپنی نے اسے شیئر بھی دے دیئے‘ یہ اس وقت 60 کروڑ 50 لاکھ ڈالرز کے شیئرز کا مالک بھی ہے۔
گوگل نے پچائی کو فروری 2016ءکے دوسرے ہفتے 19 کروڑ 90 لاکھ ڈالر تنخواہ کا چیک دیا‘ پچائی یہ چیک وصول کرتے ہی دنیا کا سب سے زیادہ معاوضہ لینے والا ”سی ای او“ بن گیا‘ ہم اگر انہیں پاکستانی روپوں میں تبدیل کریں تو یہ دوسو کروڑ روپے بنیں گے گویا تامل ناڈو کا 43 برس کا ایک غریب جوان سالانہ دو سو کروڑ روپے تنخواہ لے رہا ہے اور غریب بھی ایسا جس نے 18 سال کی عمر تک فرش پر سو کر اور فرش پر بیٹھ کر تعلیم حاصل کی اور جو 12 سال کی عمر تک ٹیلی فون اور امریکا آنے تک ٹیلی ویژن اور گاڑی سے محروم تھا اور جس کا پورا بچپن دوسرے جوتے‘ تیسری شرٹ اور چوتھے پین کو ترستے گزرا اور جو آج بھی ہندی لہجے میں انگریزی بولتا ہے اور اپنے گندمی رنگ کی وجہ سے دور سے پہچانا جاتا ہے ۔

معلم جلدی بوڑھے نہیں ھوتے

ایک صاحب کی شادی کی عمر نکل گئ آخر ایک لڑکی پسند آ گئ تو رشتہ پرپوز کیا لڑکی نے دو شرطیں رکھیں اور شادی پر تیار ھو گئ ایک یہ کہ ھمیشہ جوانوں میں بیٹھو گے دوسرا دیوار پھلانگ کے گھر آیا کرو گے ! شادی ھو گئ بابا جی جوانوں میں ھی بیٹھتے اور گپیں لگاتے،جوان ظاھر ھے لڑکیوں کی اور پیار محبت کی ھی باتیں کرتے ھیں،منڈیوں کے بھاؤ سے انہیں دلچسپی نہیں اور نہ موضوعات شریف سے کچھ لینا دینا،، بابا کا موڈ ھر وقت رومینٹک رھتا اور جاتے اور ایک جھٹکے سے دیوار پھلانگ کر گھر میں دھم سے کود جاتے !
آخر ایک دن بابا جی کے پرانے جاننے والے مل گئے ، وہ انہیں گلے شکوے کر کے اور گھیر گھار کے اپنی پنڈال چوکڑی میں لے گئے،، اب وھاں کیا باتیں ھونی تھیں ؟ یار گھٹنوں کے درد سے مر گیا ھوں بیٹھ کر نماز پڑھتا ھوں،، میری تو بھائی جان ریڑھ کی ھڈی کا مہرہ کھل گیا ھے،ڈاکٹر کہتا ھے جھٹکا نہ لگے،، یار مجھے تو نظر ھی کچھ نہیں آتا کل پانی کے بجائے مٹی کا تیل پی گیا تھا، ڈرپ لگی ھے تو جان بچی ھے،، بابا جوں جوں ان کی باتیں سنتا گیا توں توں اس کا مورال زمین پر لگتا گیا،، جب ٹھیک پاتال میں پہنچا تو مجلس برخواست ھو گئ اور بابا گھسٹتے پاؤں کے ساتھ گھر کو روانہ ھوا !
گھر پہنچ کر دیوار کو دیکھا تو گھر کی دیوار کی بجائے وہ دیوارِ چین لگی ،، ھمت نہ پڑی دیوار کودنے کی کہ کہیں بابے پھجے کی طرح چُک نہ نکل آئے آخر ماڈل تو دونوں کا ایک ھی تھا،بابا نے کُنڈہ کھٹکھٹایا،،کھٹ کھٹ ،، اندر سے بیوی بولی اسی لئی بولا تھا جوانوں میں بیٹھا کر ،لگتا ھے آج بوڑھوں کی مجلس اٹینڈ کر لی ھے،اسی لئے ھمت جواب دے گئ ھے !
نتیجہ ! انسان بوڑھا نہیں ھوتا مجلس بوڑھا کر دیتی ھے،، ماھرین نفسیات لکھتے ھیں کہ معلم اسی لئے جلدی بوڑھے نہیں ھوتے کیونکہ وہ بچوں کی مجلس میں رھتے ھیں یوں وہ ماحول ان پر ٹائم اینڈ سپیس کے اثرات کو نیوٹرل کر دیتا ھے.