Skip to main content

Posts

Showing posts from 2014

Profession

بحثیت مسلمان ہم سب کا اس بات پر یقین ہے کہ جو رزق لکھ دیا گیا ہے آپ کو وہ ہی ملےگا نہ ایک پائی ذیادہ اور نہ ایک پائی کم - پھر پروفیشن منتخب کرتے وقت کیوں سوچا جائے کہ کس میں ذیادہ پیسے ہیں اور کس میں کم - بلکہ ہیں سوچنا چاہے کہ وہ کیا کام ہے جسے کرنے میں آپ خوشی محسوس کرتے ہیں - جو آپ بغیر کسی معاوضہ کے لیئے کرنا چاہیں گے - یہ وہ ہی کام ہوگا جو آپ کو بلندیوں پر لے کر جائے گا

With reference to Al-Qura'an, do we find ourselves some where

میں قرآن میں کہاں ہوں
بِسۡمِ اللهِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِيۡمِ
مشہور محدث اور امام احمد بن حنبل کے شاگرد رشید شیخ الاسلام ابو عبداللہ محمد بن نصر مروزی بغدادی (202....294ھ) نے اپنی کتاب قیام اللیل میں ایک عبرت انگیز قصہ نقل کیا ہے جس سے اس آیت کے فہم میں مدد ملتی ہے، اور سلف کے فہم قرآن اور تدبر قرآن پر روشنی پڑتی ہے۔ جلیل القدر تابعی اور عرب سردار احنف بن قیس ایک دن بیٹھے ہوئے تھے کہ کسی نے یہ آیت پڑھی: لَقَد اَنزَلنَآ اِلَیکُم کِتٰبًا فِیہِ ذِکرُکُم اَفَلاَ تَعقِلُونَ (سورہ الانبیاء۔ ع۔ ١) ترجمہ) ”ہم نے تمہاری طرف ایسی کتاب نازل کی جس میں تمہارا تذکرہ ہے، کیا تم نہیں سمجھتے ہو“۔ وہ چونک پڑے اور کہا کہ ذرا قرآن مجید تو لانا اس میں، میں اپنا تذکرہ تلاش کروں، اور دیکھوں کہ میں کن لوگوں کے ساتھ ہوں، اور کن سے مجھے مشابہت ہے؟
انہوں نے قرآن مجید کھولا، کچھ لوگوں کے پاس سے ان کا گزر ہوا، جن کی تعریف یہ کی گئی تھی: کَانُوا قَلِیلاً مِّن اللَّیلِ مَا یَھجَعُونَ Oوَبِالاَسحَارِھُم یَستَغفِرُونَ Oوَفِی اَموَالِھِم حَقّ لِّلسَّائِلِ وَالمَحرُومِ (الذریٰت۔ ع۔ ١) ترجمہ) ”رات کے تھوڑے حصے میں س…