Skip to main content

Posts

Showing posts from August, 2016

آذان و نماز کا احترام

امام احمد بن حنبل کے پڑوس میں ایک لوہار رہتا تھا جب وہ فوت ہوا تو ایک محدث نے انکو خواب میں دیکھا پوچھا کہ فرمائیں کیا معاملہ پیش آیا ۔ لوہار نے کہا کہ مجھے امام احمد کے برابر درجہ ملا ہے ۔ اور اللہ مجھ سے راضی ہے ۔ وہ محدث بڑا حیران ہوا کہ یہ تو ایک عام سا دنیادار لوہار تھا جبکہ امام احمد تو دین و دنیا کے مسائل سمجھاتے قرآن و احادیث کا علم پھیلاتے کتنی مشکلات کا سامنا کیا ۔
اس محدث نے دوسرے علما کو یہ بات بتائی تو سب نے مشورہ کیا کہ ہم لوہار کے اہلہ خانہ سے پتہ کرنا چاہیے۔ وہ انکے گھر چلے گئے ۔ اس محدث نے پوچھا " بی بی آپکے شوہر کو ہم نے بہت اچھے درجے میں دیکھا ہے کیا آپ انکے کسی حاص عمل کا علم رکھتی ہے جو انکے زندگی میں عام تھا ۔ لوہار کی بیوی نے کہا کہ میرا شوہر کوئی حاص عمل نہیں کرتا تھا وہ ایک دنیا دار انسان تھا ۔ سارا دن وہ لوہے کا کام کرتا تھا ۔
میرے شوہر کے دو نمایاں عمل جو میں نے محسوس کیے ان میں ایک تو یہ کہ انکے اندر آذان و نماز کا بے حد احترام تھا ۔ اگر لوہے پہ ضرب مارنے کے لیے کھبی انکا ہاتھ اوپر ہوتا اور اسی وقت اللہ اکبر کی آواز آتی تو آپ اسی وقت اپنا ہاتھ نیچے ک…

اللہ کی دی ہوئ نعمتوں کی قدر کیجئے

کسی جنگل میں ایک کوا رہتا تھا۔ کوا اپنی زندگی سے بڑا مطمئن اور خوش باش تھا۔ ایک دن کوے نے پانی میں تیرتے سفید ہنس کو دیکھا۔ کوا ہنس کے دودھ جیسے سفید رنگ اور خوبصورتی سے بڑا متاثرهوا اور سوچنے لگا کہ یہ ہنس تو یقینا'' دنیا کا خوبصورت ترین اور خوش ترین پرندہ ہوگا۔اس کے مقابلے میں میں کتنا کالا کلوٹا اور بھدا ہوں۔ کوے نے جب یہی بات ہنس سے کی تو ہنس بولا کہ میں بھی اپنے آپ کو دنیا کا خوبصورت اور خوش قسمت ترین پرندہ سمجھتا تھا لیکن جب میں نے طوطے کو دیکھا تو مجھے اس پر رشک آیا کہ اس کو دو خوبصورت رنگوں سے نوازا گیا ہے۔ میرے خیال میں تو طوطا دنیا کا سب سے خوبصورت پرندہ ہے۔ کوا یہ سن کر طوطے کے پاس پہنچا۔جب اس نے یہی بات طوطے سے کہی تو طوطا بولا۔'' میں بھی بڑا خوش باش اور اپنی زندگی اورخوبصورتی سے بہت مطمئن تھا لیکن جب سے میں نے مور کو دیکھا ہے میرا سارا سكون اور خوشی غارت ہو گئ ہے۔ مور کو تو قدرت نے بیشمار پنکھوں اور خوب صورت رنگوں سے نوازا ہے۔۔ کوا مور کو ڈھونڈتے ہوے چڑیا گھر پہنچ گیا جہاں مور ایک پنجرے میں قید تھا اور سینکڑوں لوگ اسے دیکھنے کے لئے جمع تھے۔ شام کو جب لوگوں کی…

حقیقی دوست (Real Friendship)

۔ ایک شخص کا ایک بیٹا تھا روز رات کو دیر سے آتا اور جب بھی اس سے باپ پوچھتا بیٹا کہاں تھے.؟ تو جھٹ سے کہتا کہ دوست کے ساتھ تھا. ایک دن بیٹا جب بہت زیادہ دیر سے آیا تو باپ نے کہا کہ بیٹا آج میں تمہارے دوست سے ملنا چاہتا ہوں. بیٹے نے فوراً کہا اباجی اس وقت؟؟ ابھی رات کے دوبجے ہیں کل چلتے ہیں. باپ نے جواب دیا نہیں ابھی چلتے ہیں. تمہارے دوست کا تو پتہ چلے. باپ نے ضد ٹھان لی. جب اس کے گھر پہنچے اور دروازہ کھٹکھٹایا تو کافی دیر تک کوئی جواب نہ آیا. بالآخر بالکونی سے سر نکال کہ ایک بزرگ نے آنے کی وجہ دریافت کی تو لڑکے نے جواب دیا  دوست سے ملنا ہے. اس وقت, مگروہ تو سو رہا ہے بزرگ نے جواب دیا. چاچا آپ اس کو جگاؤ مجھے اس سے ضروری کام ہے, مگربزرگ اپنی بات پہ ڈٹا رہا کہ صبح کو آجانا. ابھی سونے دو ,اب تو عزت کا معاملہ تھا تو اس نے ایمرجنسی اور اہم کام کا حوالہ دیا مگرآنا تو درکنار دیکھنا اور جھانکنا بھی گوارا نہ کیا ۔

 تبھی باپ نے بیٹے سے کہا کہ چلو اب میرے ایک دوست کے پاس چلتے ہیں. جس کا نام خیر دین ہے. دور سفر کرتے اذان سے ذرا پہلے وہ اس گاؤں پہنچے اور خیردین کے گھر کا دروازہ کھٹکھٹایا, مگر جواب…

Mirat-ul-Uroos - Fariha Pervez - Lyrics

میرا ایک چھوٹا سا سپنا ہے
جسے پل میں پورا کر دے گا
ان آتی جاتی سانسوں میں
وہ خوشبو کوئی بھر دے گا
مجھے اونچی ہواوُں میں اڑنا ہے
اور امبر کو جا چھونا ہے
سونا ہے یار کے بستر پر
پھر ہر ایک خواہش میں جگنا ہے
جب چاہوں گھوموں بگھیا میں
میں تتلی ہوں مجھے پر دیتا
وہاں کیسے چیں ملے مجھ کو
جہاں قدم قدم پر پہرے ہوں
دم گھٹتا ہوجہاں  رہتے ہوئے
جہاں غم کے سائے گہرے ہوں
جومنزل پر لے جائے گی
وہ مجھ کو ایسی ڈگر دے گا
میں چلتے چلتے تھک بھی گئی
اور منزل ہاتھ نہیں آئی
خود اپنے سپنے تور لیئے
اور سکھ کی رات نہیں آئی
اب آکے ہوا مجھے انداذہ
میرا ساتھ وہ ذندگی بھر دے گا
کیوں حد سے گزری وحشت میں
اسے دھیرے دھیرے کیوں نہ چھوا
کیوں سارے ناتے ٹوٹ گئے
بھری بھول ہوئی احساس ہوا
جب ٹوٹے لمحے جوڑوں گی
مجھے جینے کی وہ خبر دے گا
میرا چھوٹا سا اک سپنا ہے
جسے پل میں پورا کردے گا
ان آتی جاتی سانسوں میں
وہ خوشبو کوئی بھر دے گا