Skip to main content

آذان و نماز کا احترام

امام احمد بن حنبل کے پڑوس میں ایک لوہار رہتا تھا جب وہ فوت ہوا تو ایک محدث نے انکو خواب میں دیکھا پوچھا کہ فرمائیں کیا معاملہ پیش آیا ۔ لوہار نے کہا کہ مجھے امام احمد کے برابر درجہ ملا ہے ۔ اور اللہ مجھ سے راضی ہے ۔ وہ محدث بڑا حیران ہوا کہ یہ تو ایک عام سا دنیادار لوہار تھا جبکہ امام احمد تو دین و دنیا کے مسائل سمجھاتے قرآن و احادیث کا علم پھیلاتے کتنی مشکلات کا سامنا کیا ۔
اس محدث نے دوسرے علما کو یہ بات بتائی تو سب نے مشورہ کیا کہ ہم لوہار کے اہلہ خانہ سے پتہ کرنا چاہیے۔ وہ انکے گھر چلے گئے ۔ اس محدث نے پوچھا " بی بی آپکے شوہر کو ہم نے بہت اچھے درجے میں دیکھا ہے کیا آپ انکے کسی حاص عمل کا علم رکھتی ہے جو انکے زندگی میں عام تھا ۔ لوہار کی بیوی نے کہا کہ میرا شوہر کوئی حاص عمل نہیں کرتا تھا وہ ایک دنیا دار انسان تھا ۔ سارا دن وہ لوہے کا کام کرتا تھا ۔
میرے شوہر کے دو نمایاں عمل جو میں نے محسوس کیے ان میں ایک تو یہ کہ انکے اندر آذان و نماز کا بے حد احترام تھا ۔ اگر لوہے پہ ضرب مارنے کے لیے کھبی انکا ہاتھ اوپر ہوتا اور اسی وقت اللہ اکبر کی آواز آتی تو آپ اسی وقت اپنا ہاتھ نیچے کرلیتے وضو کرتے اور نماز پڑھنے چلے جاتے۔
دوسری بات یہ کہ میرے شوہر سارا دن دکان پہ مصروف ہوتے رات کو ہم چھت کے اوپر سوتے ہمارے  پڑوس میں امام احمد بن حنبل رہتے تھے جو ساری ساری رات قرآن کی تلاوت کرتے میرے شوہر حسرت سے انکی طرف دیکھتے اور ٹھنڈی آہیں بھرتے اور اللہ سے دعا کرتے کہ یااللہ میں بے حد غریب انسان ہوں آپ سے میرا کچھ چھپا نہیں اگر میری کمر ہلکی ہوتی تو میں بھی اس طرح امام صاحب جیسے ساری رات قرآن پڑھا کرتا تھا ۔ کھب کھبی میرے شوہر یہ دعا کرتے ہوے رونے لگ جاتے ۔
اس محدث نے کہا کہ آذان کے ادب اور نیکی کرنے کی تڑپ کی وجہ سے ہی اللہ پاک نے آپکے شوہر کی مغفرت کی ہے اور انکو امام حنبل کے برابر درجہ دیا ہے ۔
ہمارے بچپن میں جب آذان ہوتی تھی تو ٹی وی بند کردیا جاتا کہ آذان ہورہی ،پھر وقت آیا جب آذان کے وقت ٹی بند کرنے کی روایت ختم ہوئی اور بس آواز بند کرنے پہ اکتفا کیا گیا ۔ وقت گزر گیا اور آج آذان بھی ہورہی ہوتی ھے اور سٹار پلس بھی چلتا ہے۔
شیئر کیجیے اور اس پیغام کو دور دور تک پھیلانے میں ھمارے مددگار بنیئے.. یہ صدقہ جاریہ ھے..!! فرقہ واریت اور مسلکی تعصب سے پاک ایک خالص اصلاحی گروپ(اصلاح امت).. جہاں ھم امت مسلمہ کے اتحاد و اتفاق کے لیے کوشاں ھیں....

Post a Comment

Popular posts from this blog

Mirat-ul-Uroos - Fariha Pervez - Lyrics

میرا ایک چھوٹا سا سپنا ہے
جسے پل میں پورا کر دے گا
ان آتی جاتی سانسوں میں
وہ خوشبو کوئی بھر دے گا
مجھے اونچی ہواوُں میں اڑنا ہے
اور امبر کو جا چھونا ہے
سونا ہے یار کے بستر پر
پھر ہر ایک خواہش میں جگنا ہے
جب چاہوں گھوموں بگھیا میں
میں تتلی ہوں مجھے پر دیتا
وہاں کیسے چیں ملے مجھ کو
جہاں قدم قدم پر پہرے ہوں
دم گھٹتا ہوجہاں  رہتے ہوئے
جہاں غم کے سائے گہرے ہوں
جومنزل پر لے جائے گی
وہ مجھ کو ایسی ڈگر دے گا
میں چلتے چلتے تھک بھی گئی
اور منزل ہاتھ نہیں آئی
خود اپنے سپنے تور لیئے
اور سکھ کی رات نہیں آئی
اب آکے ہوا مجھے انداذہ
میرا ساتھ وہ ذندگی بھر دے گا
کیوں حد سے گزری وحشت میں
اسے دھیرے دھیرے کیوں نہ چھوا
کیوں سارے ناتے ٹوٹ گئے
بھری بھول ہوئی احساس ہوا
جب ٹوٹے لمحے جوڑوں گی
مجھے جینے کی وہ خبر دے گا
میرا چھوٹا سا اک سپنا ہے
جسے پل میں پورا کردے گا
ان آتی جاتی سانسوں میں
وہ خوشبو کوئی بھر دے گا

Khuda Karay K Meri Arz -e- Pak Par Utray

خدا کرے کہ میری ارض پاک پر اترے وہ فصل گل ، جسے اندیشہ زوال نہ ہو یہاں جو پھول کھلے، وہ کھلا رہے صدیوں یہاں خزاں کو گزرنے کی بھی مجال نہ ہو
یہاں جو سبزہ اگے، وہ ہمیشہ سبز رہے اور ایسا سبز ، کہ جس کی کوٴی مثال نہ ہو گھنی گھٹاٴیں یہاں ایسی بارشیں برسا ٴیں کہ پتھروں سے بھی روٴید گی محال نہ ہو
خدا کرے کہ نہ خم ہو سر وقار وطن اور اس کے حسن کو تشویش ماہ و سال نہ ہو ہرایک فرد ہو تہذیب و فن کا اوج کمال کوٴی ملول نہ ہو، کوٴی خستہ حال نہ ہو
خدا کرے کہ میرے اک بھی ہم وطن کےلیے حیات جرم نہ ہو، زندگی وبال نہ ہو خدا کرے کہ میری ارض پاک پر اترے وہ فصل گل ، جسے اندیشہ زوال نہ ہو

ضروری تو نہیں

میں بتا دوں تمہیں ہربات ضروری تو نہیں
آخری ہو یہ ملاقات ضروری تو نہیںجیت جانا تمہیں دشوار نہیں لگتا تھا
آج بھی ہوگی مجھے مات ضروری تو نہیںآدمی فہم و ذکاء سے ہے مزین لیکن
بند ہو جائے خرافات ضروری تو نہیںدل کی راہوں پہ کڑا پہرا ہے خوش فہمی کا
مجھ سے کھیلیں میرے جذبات ضروری تو نہیںامتحاں گاہ سے تو جاتے ہیں سبھی خوش ہوکر
ٹھیک ہوں سب کے جوابات ضروری تو نہیںممتحن میں تو تیرے نام سے لرزاں تھی مگر
تیرے تیکھے ہوں سوالات ضروری تو نہیںمجھ کو انسان کی قدریں بھی بہت بھاتی ہیں
بیش قیمت ہوں جمادات ضروری تو نہیںیوں تو زر اور زمیں بھی ہیں مگر عورت ہو
باعث وجہ فسادات ضروری تو نہیںہر نئے سال کی آمد پر یہ کیوں سوچتی ہوں
اب بدل جائیں گے حالات ضروری تو نہیں[پروین شاکر]