Skip to main content

آسانیاں بانٹنا

کسی بزرگ نے کہا کہ: "اللہ آپ کو آسانیاں بانٹنےکی توفیق عطا کرے"
جواب دیا کے ہم مال پاک کرنے کے لئے زکات بھی دیتے ہیں ، بلا ٹالنے کے لئے حسب ضرورت صدقہ بھی دیتے ہیں ، اور تو اور کام والی کے بچے کی تعلیم کا ذمہ بھی اٹھایا ہوا ہے، ہم تو کافی آسانیاں بانٹ چکے.....
ایک مضطرب مسکراہٹ کے بعد فرمایا : بیٹا ! سانس، پیسے ، کھانا، یہ سب رزق کی اقسام ہیں ، اور رازق وہ ہے تم نہیں؛ تم یہ سب کرنا چھوڑ دو تو بھی اس کی ذات یہ سب فقط ایک ساعت میں عطا کر سکتی ہے ، تم تو یہ سب کر کے محض اشرف المخلوقات ہونے کا فرض ادا کر رہے ہو .
میں تمہیں سمجھاتا ہوں آسانیاں بانٹنا کیا ہے ،
کسی اداس اور مایوس آدمی کے کندھے پے ہاتھ رکھ کے اس کی ایک گھنٹہ لمبی بات پیشانی پے بغیر شکن لاۓ سننا آسانی ہے ،
کسی بیوہ کی بیٹی کے رشتے کی اپنی ضمانت پے تگ ودو کرنا آسانی ہے ،
صبح آفس جاتے ہوے کسی یتیم بچے کو اسکول لے جانے کی ذمہ داری لینا آسانی ہے ،
اگر آپ کسی گھر کے داماد یا بہنوئی ہیں تو خود کو تمام رشتوں سے افضل نہ سمجھنا بھی آسانی ہے ،
کسی غصے میں بپھرے آدمی کی نہایت غلط بات برداشت کرنا آسانی ہے ،
کسی کی غلطی ، لغزش یا غلط فہمی پے خدائی صفت بروے کار لانا اور پردہ ڈالنا بھی آسانی ہے ..
چاۓ والے کو اوے کہ کے نہ بلانا بھی آسانی ہے ،
گلی کے کونے پے چھابڑی والے سے دام پے بحث نا کرنا آسانی ہے ،
آفس ، دکان یا کام کی جگہ پے چوکیدار یا ملازم سے گرم جوشی سے ملنا اور اس کے بچوں کا حال پوچھنا بھی آسانی ہے ،
ہسپتال میں اپنے مریض کی دیکھ بھال کے ساتھ، برابر والے بستر پے پڑے انجان مریض کے پاس بیٹھ کےدولمحےتسّلی دینا بھی آسانی ہے،
اشارے پے کھڑے ہو کے کسی ایسے شخص کو ہارن نہ دینا جس کی موٹر بائیک آپ کی گاڑی کے آگے بند ہو جاۓ، یہ بھی آسانی ہے ،
بیٹا جی ! آسانی گھر سے ہی شروع کریں ،
آج واپس جا کے گھر کی بیل ایک دفعہ دے کے تھوڑا انتظار کریں ،
باپ کی ڈانٹ ایسے سنیں جیسے ریڈیو پے گانا سنتے ہیں ،
ماں کی بات اس کی دوسری آواز دینے سے پہلے سنیں ،
بہن کی ضرورت اس کی شکایت سے پہلے پوری کر دیں ،
بیگم کی غلطی پے اس کو سب کے سامنے درست نہ کریں ،
سالن اچھا نہ لگے تو شکایت نہ کریں ، استری ٹھیک نہ ہو تو خود کر لیں ،
بیٹا جی ! زندگی آپ کی محتاج نہیں ، آپ اس کے محتاج ہیں ، منزل کی فکر چھوڑیں ،
اپنا اور دوسروں کا راستہ آسان بنائیں ، منزل خود ہی مل جاۓ گی ....
اللہ ہم سب کو آسانیاں بانٹنے کی توفیق عطا

فرماۓ
Copied.....

Post a Comment

Popular posts from this blog

Mirat-ul-Uroos - Fariha Pervez - Lyrics

میرا ایک چھوٹا سا سپنا ہے
جسے پل میں پورا کر دے گا
ان آتی جاتی سانسوں میں
وہ خوشبو کوئی بھر دے گا
مجھے اونچی ہواوُں میں اڑنا ہے
اور امبر کو جا چھونا ہے
سونا ہے یار کے بستر پر
پھر ہر ایک خواہش میں جگنا ہے
جب چاہوں گھوموں بگھیا میں
میں تتلی ہوں مجھے پر دیتا
وہاں کیسے چیں ملے مجھ کو
جہاں قدم قدم پر پہرے ہوں
دم گھٹتا ہوجہاں  رہتے ہوئے
جہاں غم کے سائے گہرے ہوں
جومنزل پر لے جائے گی
وہ مجھ کو ایسی ڈگر دے گا
میں چلتے چلتے تھک بھی گئی
اور منزل ہاتھ نہیں آئی
خود اپنے سپنے تور لیئے
اور سکھ کی رات نہیں آئی
اب آکے ہوا مجھے انداذہ
میرا ساتھ وہ ذندگی بھر دے گا
کیوں حد سے گزری وحشت میں
اسے دھیرے دھیرے کیوں نہ چھوا
کیوں سارے ناتے ٹوٹ گئے
بھری بھول ہوئی احساس ہوا
جب ٹوٹے لمحے جوڑوں گی
مجھے جینے کی وہ خبر دے گا
میرا چھوٹا سا اک سپنا ہے
جسے پل میں پورا کردے گا
ان آتی جاتی سانسوں میں
وہ خوشبو کوئی بھر دے گا

Khuda Karay K Meri Arz -e- Pak Par Utray

خدا کرے کہ میری ارض پاک پر اترے وہ فصل گل ، جسے اندیشہ زوال نہ ہو یہاں جو پھول کھلے، وہ کھلا رہے صدیوں یہاں خزاں کو گزرنے کی بھی مجال نہ ہو
یہاں جو سبزہ اگے، وہ ہمیشہ سبز رہے اور ایسا سبز ، کہ جس کی کوٴی مثال نہ ہو گھنی گھٹاٴیں یہاں ایسی بارشیں برسا ٴیں کہ پتھروں سے بھی روٴید گی محال نہ ہو
خدا کرے کہ نہ خم ہو سر وقار وطن اور اس کے حسن کو تشویش ماہ و سال نہ ہو ہرایک فرد ہو تہذیب و فن کا اوج کمال کوٴی ملول نہ ہو، کوٴی خستہ حال نہ ہو
خدا کرے کہ میرے اک بھی ہم وطن کےلیے حیات جرم نہ ہو، زندگی وبال نہ ہو خدا کرے کہ میری ارض پاک پر اترے وہ فصل گل ، جسے اندیشہ زوال نہ ہو

ضروری تو نہیں

میں بتا دوں تمہیں ہربات ضروری تو نہیں
آخری ہو یہ ملاقات ضروری تو نہیںجیت جانا تمہیں دشوار نہیں لگتا تھا
آج بھی ہوگی مجھے مات ضروری تو نہیںآدمی فہم و ذکاء سے ہے مزین لیکن
بند ہو جائے خرافات ضروری تو نہیںدل کی راہوں پہ کڑا پہرا ہے خوش فہمی کا
مجھ سے کھیلیں میرے جذبات ضروری تو نہیںامتحاں گاہ سے تو جاتے ہیں سبھی خوش ہوکر
ٹھیک ہوں سب کے جوابات ضروری تو نہیںممتحن میں تو تیرے نام سے لرزاں تھی مگر
تیرے تیکھے ہوں سوالات ضروری تو نہیںمجھ کو انسان کی قدریں بھی بہت بھاتی ہیں
بیش قیمت ہوں جمادات ضروری تو نہیںیوں تو زر اور زمیں بھی ہیں مگر عورت ہو
باعث وجہ فسادات ضروری تو نہیںہر نئے سال کی آمد پر یہ کیوں سوچتی ہوں
اب بدل جائیں گے حالات ضروری تو نہیں[پروین شاکر]