Skip to main content

کچھ رد عمل

ترکهان دکان بند کر کے گهر گیا تو کہیں سے گهومتا پهرتا ایک سیاہ کوبرا ناگ اس کی ورکشاپ میں گهس آیا. یہاں بظاہر تو ناگ کی دلچسپی کی کوئی چیز نہیں تهی پهر بهی ادهر سے ادهر اور اوپر سے نیچے جائزہ لیتا پهر رہا تها کہ اس کا دهڑ وہاں پڑی ایک آری سے ٹکرا کر بہت معمولی سا زخمی ہو گیا.
گهبراہٹ میں ناگ نے پلٹ کر آری پر پوری قوت سے ڈنگ مارا. فولادی آری پر زور سے لگے ڈنگ نے آری کا کیا بگاڑنا تها الٹا ناگ کے منہ سے خون بہنا شروع ہو گیا. اس بار خشونت اور تکبر میں ناگ نے اپنی سوچ کے مطابق آری کے گرد لپٹ کر، اسے جکڑ کر اور دم گهونٹ کر مارنے کی پوری کوشش کر ڈالی.
دوسرے دن جب ترکهان نے ورکشاپ کهولی تو ایک ناگ کو آری کے گرد لپٹے مردہ پایا جو کسی اور وجہ سے نہیں محض اپنی طیش اور غصے کی بهینٹ چڑھ گیا تها.
بعض اوقات غصے میں ہم دوسروں کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں، مگر وقت گزرنے کے بعد ہمیں پتہ چلتا ہے کہ ہم نے اپنے آپ کا زیادہ نقصان کیا ہے.
اچهی زندگی کیلئے بعض اوقات ہمیں
کچھ چیزوں کو
کچھ لوگوں کو
کچھ حوادث کو
کچھ کاموں کو
کچھ باتوں کو
نظر انداز کرنا چاہیئے.
اپنے آپ کو ذہانت کے ساتھ نظر انداز کرنے کا عادی بنائیے، ضروری نہیں کہ ہم ہر عمل کا ایک رد عمل دکهائیں. ہمارے کچھ رد عمل ہمیں محض نقصان ہی نہیں دیں گے بلکہ ہو سکتا ہے کہ ہماری جان بهی لے لیں.

Post a Comment

Popular posts from this blog

Mirat-ul-Uroos - Fariha Pervez - Lyrics

میرا ایک چھوٹا سا سپنا ہے
جسے پل میں پورا کر دے گا
ان آتی جاتی سانسوں میں
وہ خوشبو کوئی بھر دے گا
مجھے اونچی ہواوُں میں اڑنا ہے
اور امبر کو جا چھونا ہے
سونا ہے یار کے بستر پر
پھر ہر ایک خواہش میں جگنا ہے
جب چاہوں گھوموں بگھیا میں
میں تتلی ہوں مجھے پر دیتا
وہاں کیسے چیں ملے مجھ کو
جہاں قدم قدم پر پہرے ہوں
دم گھٹتا ہوجہاں  رہتے ہوئے
جہاں غم کے سائے گہرے ہوں
جومنزل پر لے جائے گی
وہ مجھ کو ایسی ڈگر دے گا
میں چلتے چلتے تھک بھی گئی
اور منزل ہاتھ نہیں آئی
خود اپنے سپنے تور لیئے
اور سکھ کی رات نہیں آئی
اب آکے ہوا مجھے انداذہ
میرا ساتھ وہ ذندگی بھر دے گا
کیوں حد سے گزری وحشت میں
اسے دھیرے دھیرے کیوں نہ چھوا
کیوں سارے ناتے ٹوٹ گئے
بھری بھول ہوئی احساس ہوا
جب ٹوٹے لمحے جوڑوں گی
مجھے جینے کی وہ خبر دے گا
میرا چھوٹا سا اک سپنا ہے
جسے پل میں پورا کردے گا
ان آتی جاتی سانسوں میں
وہ خوشبو کوئی بھر دے گا

Khuda Karay K Meri Arz -e- Pak Par Utray

خدا کرے کہ میری ارض پاک پر اترے وہ فصل گل ، جسے اندیشہ زوال نہ ہو یہاں جو پھول کھلے، وہ کھلا رہے صدیوں یہاں خزاں کو گزرنے کی بھی مجال نہ ہو
یہاں جو سبزہ اگے، وہ ہمیشہ سبز رہے اور ایسا سبز ، کہ جس کی کوٴی مثال نہ ہو گھنی گھٹاٴیں یہاں ایسی بارشیں برسا ٴیں کہ پتھروں سے بھی روٴید گی محال نہ ہو
خدا کرے کہ نہ خم ہو سر وقار وطن اور اس کے حسن کو تشویش ماہ و سال نہ ہو ہرایک فرد ہو تہذیب و فن کا اوج کمال کوٴی ملول نہ ہو، کوٴی خستہ حال نہ ہو
خدا کرے کہ میرے اک بھی ہم وطن کےلیے حیات جرم نہ ہو، زندگی وبال نہ ہو خدا کرے کہ میری ارض پاک پر اترے وہ فصل گل ، جسے اندیشہ زوال نہ ہو

ضروری تو نہیں

میں بتا دوں تمہیں ہربات ضروری تو نہیں
آخری ہو یہ ملاقات ضروری تو نہیںجیت جانا تمہیں دشوار نہیں لگتا تھا
آج بھی ہوگی مجھے مات ضروری تو نہیںآدمی فہم و ذکاء سے ہے مزین لیکن
بند ہو جائے خرافات ضروری تو نہیںدل کی راہوں پہ کڑا پہرا ہے خوش فہمی کا
مجھ سے کھیلیں میرے جذبات ضروری تو نہیںامتحاں گاہ سے تو جاتے ہیں سبھی خوش ہوکر
ٹھیک ہوں سب کے جوابات ضروری تو نہیںممتحن میں تو تیرے نام سے لرزاں تھی مگر
تیرے تیکھے ہوں سوالات ضروری تو نہیںمجھ کو انسان کی قدریں بھی بہت بھاتی ہیں
بیش قیمت ہوں جمادات ضروری تو نہیںیوں تو زر اور زمیں بھی ہیں مگر عورت ہو
باعث وجہ فسادات ضروری تو نہیںہر نئے سال کی آمد پر یہ کیوں سوچتی ہوں
اب بدل جائیں گے حالات ضروری تو نہیں[پروین شاکر]