Showing posts from 2017

رونے نہ دیا

عشق میں غیرتِ جذبات نے رونے نہ دیا ورنہ کیا بات تھی کس بات نے رونے نہ دیا آپ کہتے تھے رونے سے نہ بدل یں گے نصیب عمر بھر آپ کی اس بات نے رونے نہ دیا رونے والوں سے کہو انکا بھی رونا رو لیں جنکو مجبورئ حالات نے رونے نہ دیا تجھ سے مل کر ہمیں رونا تھا بہت رونا تھا تنگئ وقتِ ملاقات نے رونے نہ دیا اک دو روز کا صدمہ ہو تو رو لیں فاکر ہم کو ہر روز کے صدمات نے رونے نہ دیا سدرشن فاکر


From a flight attendant on Delta Flight 15, written following 9-11: On the morning of Tuesday, September 11, we were about 5 hours out of Frankfurt, flying over the North Atlantic. All of a sudden the curtains parted and I was told to go to the cockpit, immediately, to see the captain. As soon as I got there I noticed that the crew had that “All Business” look on their faces. The captain handed me a printed message. It was from Delta’s main office in Atlanta and simply read, “All airways over the Continental United States are closed to commercial air traffic. Land ASAP at the nearest airport. Advise your destination.” No one said a word about what this could mean. We knew it was a serious situation and we needed to find terra firma quickly. The captain determined that the nearest airport was 400 miles behind us in Gander, Newfoundland. He requested approval for a route change from the Canadian traffic controller and approval was granted immediately — no questions asked.

OBE vs IBL (in the context of Pakistan Engineering Council)

Recently, Pakistan Engineering Council (PEC) announced to follow Outcome Based Education (OBE) by all PEC accredited institution.Since then, there is a lot of debate going on comparing OBE with other student centric learning methodologies such as Project-based learning (PBL) or Inquiry-based learning (IBL). I can sense a great confusion in the air i.e. whether we have to follow OBE or student centric approaches?  This is because of not having a clear understanding about both. People are getting mixed both and sometimes consider each one replacement of another - which is factually incorrect.  OBE is a system which doesn't restrict a teacher to use any method of teaching. OBE encourage to achieve the goals/objective by using any method. PEC is using OBE for the assessment purpose i.e. whether certain objectives achieved by an engineer or not. PEC also suggested/recommended certain methodology/tools to implement OBE in classes. ( /Outcome-based_educa

Free Society

میرے نزدیک آزاد معاشرہ وہ ہے جہاں آپ کی حفاظت کی ظمانت آپکا مشہور ہونا نہ ہو۔ اڈلائ اسٹیوینسن


This is amazing, Randy Pausch 47 yrs old, A computer Sc. lecturer from   Mellon University he died of pancreatic cancer in 2008, but wrote a   book ‘The last lecture” before then, one of the bestsellers in 2007. What a legacy to leave behind… In a letter to his wife Jai and his children, Dylan, Logan, and Chloe,   he wrote this beautiful "guide to a better life" for his wife and   children to follow.  Personality: 1. Don't compare your life to others'. You have no idea what their journey is all about. 2. Don't have negative thoughts of things you cannot control. Instead, invest your energy in the positive present moment 3. Don't overdo; keep your limits 4. Don't take yourself so seriously; no one else does 5. Don't waste your precious energy on gossip 6. Dream more while you are awake 7. Envy is a waste of time. You already have all you need. 8. Forget issues of the past. Don't remind your partner of his/her mistakes of the pas

A ship is safe in harbor, but that’s not what ships are for - Quote

"A ship is safe in harbor, but that’s not what ships are for." — William G.T. Shedd ایک جہاز سب سے ذیادہ محفوظ بندرگاہ پر ہوتا ہے؛ مگر جہاز بندرگاہ پر کھڑے رہنے کے لئے نہیں بنا ہوتا۔ جہاز کا مقصد ہی سمندر کی موجوں سے لڑنا ہوتا ہے اسی طرح ہماری ذندگیوں کا مقصد بھی محض آرام و آسائش تلاش کرنا نہیں ہونا چاہیۓ بلکہ زمانےکی موجوں سے لڑ کر حقیقی مقصد تلاش کرنا ہونا چاہئے

پی ایچ ڈی کی ڈگری

Just for Laugh پروفیسر صاحب انتہائی اہم موضوع پر لیکچر دے رہے تھے، جیسے ہی آپ نے تختہ سیاہ پر کچھ لکھنے کیلئے رخ پلٹا کسی طالب علم بے سیٹی ماری۔ پروفیسر صاحب نے مڑ کر پوچھا کس نے سیٹی ماری ہے تو کوئی بھی جواب دینے پر آمادہ نا ہوا۔ آپ نے قلم بند کر کے جیب میں رکھا اور رجسٹر اٹھا کر چلتے ہوئے کہا؛ میرا لیکچر اپنے اختتام کو پہنچا اور بس آج کیلئے اتنا ہی کافی ہے۔ پھر انہوں نے تھوڑا سا توقف کیا، رجسٹر واپس رکھتے ہوئے کہا، چلو میں آپ کو ایک قصہ سناتا ہوں تاکہ پیریڈ کا وقت بھی پورا ہوجائے۔ کہنے لگے: رات میں نے سونے کی بڑی کوشش کی مگر نیند کوسوں دور تھی۔ سوچا جا کر کار میں پٹرول ڈلوا آتا ہوں تاکہ اس وقت پیدا ہوئی کچھ یکسانیت ختم ہو، سونے کا موڈ بنے اور میں صبح سویرے پیٹرول ڈلوانے کی اس زحمت سے بھی بچ جاؤں۔ پھر میں نے پیٹرول ڈلوا کر اُسی علاقے میں ہی وقت گزاری کیلئے ادھر اُدھر ڈرائیو شروع کردی۔ کافی مٹرگشت کے بعد گھر واپسی کیلئے کار موڑی تو میری نظر سڑک کے کنارے کھڑی ایک لڑکی پر پڑی، نوجوان اور خوبصورت تو تھی مگر ساتھ میں بنی سنوری ہوئی بھی، لگ رہا تھا کسی پارٹی سے واپس آ رہی

The 10 Rules Of Success Andrew Carnegie used to become incredibly rich

1. Define your purpose. Create a plan of action and start working toward it immediately. 2. Create a "master-mind alliance." Contact and work with people who have what you haven't. 3. Go the extra mile. Doing more than you have to do is the only thing that justifies raises or promotions, and puts people under an obligation to you. 4. Practice "applied faith." Believe in yourself and your purpose so fully that you act with complete confidence. 5. Have personal initiative. Do what you have to without being told. 6. Indulge your imagination. Dare to think beyond what's already been done. 7. Exert enthusiasm. A positive attitude sets you up for success and wins the respect of others. 8. Think accurately. Accurate thinking is the ability to separate facts from fiction and to use those pertinent to your own concerns or problems. 9. Concentrate your effort. Don't become distracted from the most important task you are currently f

کام ہمارے

ایک بڑے اسکول کے چھوٹے سے بچے کو جب میں نے کلاس میں ریپر پھینکتے دیکھا تو فورا بولا بیٹا اس کو اٹھائیں تو اس بچے نے جھٹ کر کے جواب دیا کہ انکل میں کوئی سوئیپر تھوڑا ہوں تھوڑی دیر میں سوئیپر انکل آ کر اٹھا لینگے ۔یہ اس بچے کا  جواب نہیں تھا یہ اس اسکول کا جواب تھا جہاں سے وہ تعلیم حاصل کررہا ہے ۔ میں نے کئی لوگوں کو بغیر ہیلمٹ اور بغیر سیٹ بیلٹ باندھے پاکستان کے ٹریفک کے نظام کو گالیاں دیتے دیکھا ہے ۔ میں نے کئی لوگوں کو فٹ پاتھ پر پان کی پیک مارتے ، اپنی گلی کے سامنے والی گلی میں کچرا ڈالتے ، سیگرٹ پی کر زمین پر ڈالتے اور پھر دبئی اور لندن کی صفائی ستھرائی کا ذکر کرتے دیکھا ہے ۔ اپنے مکان کی تعمیر کے دوران اچھے خاصے درخت کو کاٹتے اور اور پھر سنگاپور کی ہریالی کا ذکر کرتے سنا ہے ۔٘میں نے کئی ماووں کو چیختے ہوئے دیکھا ہے جو اپنے بچوں کو چیخ کر کہتی ہیں کہ چیخا مت کرو میں کوئی بہری نہیں ہوں اور کئی باپوں کو مارتے ہوئے دیکھا ہے کہ جو بچوں کو کہتے ہیں آئیندہ بھائی کو ہاتھ مت لگانا ورنہ ہاتھ توڑ دونگا ۔ اپنے گھر کی گیلری کو بڑھاتے اور گلی گھیرتے دیکھا ہے اور ان ہی کی زبان سے امریکا اور یورپ


آج میں ایک افطاری پر مدعو تھا. بس میچ کے ابتدائی بیس اورز دیکھے. بیس اورز کے بعد میں نے صرف پاکستانیوں کو دیکھا. میں نے پل پل بتدریج خوشی سے دمکتے چہرے دیکھے. میں نے بچوں بڑوں بوڑھوں خواتین کو بلاوجہ خوش و مسکراتے دیکھا. میں نے اُن لوگوں کو بھی دلچسپی لیتے دیکھا جو کرکٹ کی ابتدائی ابجد سے بھی واقف نہیں تھے. واپسی میں میچ مکمل ہوچکا تھا. جیت رقم ہو چکی تھی. میں نے گلیوں میں سب کو مسکراتے دیکھا. میں نے موٹر سائیکلوں پر جوانوں کو پرچم اٹھائے یہاں وہاں دوڑتے دیکھا. میں نے ٹریفک جام میں بھی کسی کو پریشان نہ دیکھا. میں نے گاڑیوں کے شیشوں سے اجنبیوں کیلئے لہراتے ہاتھ دیکھے. میں نے ٹریفک و عام پولیس کو بھی سب کو پیار سے ہاتھ ہلاتے دیکھا. ہاں گھر واپسی تک میں نے کسی جماعت کا پرچم نہ دیکھا. میں نے بس صرف پاکستانی دیکھے. انکو خوش ہوتے دیکھا. ٹی وی پر ہر طرف خوشیاں دیکھی. فخر دیکھا، طمانیت دیکھی. کرکٹ کسی قوم کیلئے کھیل ہوگا. لیکن میں نے اپنی قوم کیلئے اسے وقت موجود واحد اتفاق کی زنجیر بنتے دیکھا. سری نگر سے خیبر تک گوادر سے قصور تک کراچی سے وانا تک........ آج سارا صرف پاکستان تھا. آج سار

Dhobi aur ustaad


By all the things you're not!

You are not your age, Nor the size of clothes you wear. You are not a weight, Or the color of your hair. You are not your name, You are not your sweet fake smile. You are all the books you read, And all the words you speak. You are your morning sleepy voice, And all the smiles you try to hide. You are the sweetness in your laughter, And every tear you've cried. You’re the songs you sing so loudly, When you know you are all alone. You are the places you have been to,  And the one you call home. You are the things you believe in, And the people you love. You are the photos in your bedroom, And the future you dream of. You are made of so much beauty, But it seems that you forgot. When you decided that you were defined, By all the things you're not! Erin Hanson

ضروری تو نہیں

میں بتا دوں تمہیں ہربات ضروری تو نہیں آخری ہو یہ ملاقات ضروری تو نہیں جیت جانا تمہیں دشوار نہیں لگتا تھا آج بھی ہوگی مجھے مات ضروری تو نہیں آدمی فہم و ذکاء سے ہے مزین لیکن بند ہو جائے خرافات ضروری تو نہیں دل کی راہوں پہ کڑا پہرا ہے خوش فہمی کا مجھ سے کھیلیں میرے جذبات ضروری تو نہیں امتحاں گاہ سے تو جاتے ہیں سبھی خوش ہوکر ٹھیک ہوں سب کے جوابات ضروری تو نہیں ممتحن میں تو تیرے نام سے لرزاں تھی مگر تیرے تیکھے ہوں سوالات ضروری تو نہیں مجھ کو انسان کی قدریں بھی بہت بھاتی ہیں بیش قیمت ہوں جمادات ضروری تو نہیں یوں تو زر اور زمیں بھی ہیں مگر عورت ہو باعث وجہ فسادات ضروری تو نہیں ہر نئے سال کی آمد پر یہ کیوں سوچتی ہوں اب بدل جائیں گے حالات ضروری تو نہیں [پروین شاکر]

Great Confusions

¤ At a movie theater, which arm rest is yours?  ¤ In the word scent, is "S"  silent or "C"?  ¤ Why is there a 'D' in fridge, but not in refrigerator?  ¤ Who knew what time it was when the first clock was made? ¤ If pro and con are opposites, wouldn't the opposite of progress be...congress? ¤  Wonder why the word funeral starts with FUN? ¤ Why isn't a Fireman called a Water-man? ¤ How come Lipstick doesn't do what it says? ¤  If money doesn't grow on trees, how come Banks have Branches?  ¤ If a Vegetarian eats vegetables, what does a Humanitarian eat? ¤  How do you get off a non-stop Flight? ¤ Why are goods sent by ship called CARGO and those sent by truck SHIPMENT? ¤ Why do we put cups in the dishwasher and the dishes in the Cupboard? ¤ Why do doctors 'practice' medicine? Are they having practice at the cost of the patients?  ¤ Why is it called 'Rush Hour' when traffic moves at its slowest then? -¤ How come Noses run and Feet


وہ دووور کے سمندروں میں شکار کے لئے جاتے تھے ، برف میں لگی مچھلیاں ساحل تک پہنچتے باسی ہو جاتی تھیں -  پھر انہوں نے فشنگ ٹرالرز میں واٹر ٹینک بنا لئے مگر اب بھی مہینوں کے سفر میں  وہ زندہ تو رہتی تھیں مگر ایکٹو اور متحرک نہ رہنے کی وجہ سے گوشت میں وہ لذت برقرار نہیں رہ پاتی تھی۔۔۔ پھر مچھیروں نے ان بڑے بڑے ٹینکوں میں ایک "شارک "چھوڑ نا شروع کر دی اور پھریوں ہوا کہ ساری مچھلیاں  مسلسل ایکٹو ،الرٹ  رہنے لگیں ۔۔۔ یاد رکھیں ! ایکٹو، پر جوش ،پر عزم اور جدو جہد سے بھرپور زندگی جینی ہے ،جھپٹنا پلٹنا اور پلٹ کر جھپٹنا ہے تو اپنی زندگی میں کوئی چیلنج ،کوئی بڑا ہدف ،کوئی بڑا خواب رکھو! لہو بھی گرم رہے گا اور جینے کا مزہ بھی آئے گا As received

یہ ہے میرا پاکستان

2005ء کا ہولناک زلزلہ آیا تو اس سے خیبر پختون خوا میں واقع میرا ضلع بھی متاثر تھا۔ میں اور میرا بھائی اس ضلع میں مدد کو پہنچے تو ہمارے ساتھ ہمارے دو پنجابی اور دو مہاجر دوست بھی تھے جو اپنے ذاتی لاکھوں روپے وہاں خرچ کرنے  آئے تھے۔ یہ ہے میرا پاکستان کچھ عرصہ قبل میرا ایک بھائی اپنے دوستوں کے ساتھ نصف شب کے وقت سندھ کی ایک ویران شاہراہ سے گزر رہاتھا تو ٹائر پنکچر ہو گیا۔ وہ ٹائر بدلنے کو رکے تو پیچھے سے ایک بڑی گاڑی بھی آ کر رک گئی، ایک وڈیرہ ٹائپ شخص اپنے گن مینوں کے ساتھ اترا اور وہیں کھڑا ہو گیا۔ میرے بھائی نے شکریہ ادا کرکے آگاہ کیا کہ کسی قسم کی مدد درکار نہیں تو وہ یہ کہہ کر آخر تک کھڑا رہا "یہ علاقہ محفوظ نہیں، آپ کو تنہاء نہیں چھوڑا جا سکتا" یہ ہے میرا پاکستان میں نصف شب کے قریب اسلام آباد کے جی 8 سیکٹر سے ایک کرسچئن کی ٹیکسی میں بیٹھ کر پنڈی اپنے گھر آیا اور جیب میں صرف ہزار کا نوٹ تھا، چینج نہ ہونے کے سبب میں نے یہ کہہ کر وہ نوٹ اسے دیدیا "جب بھی اس علاقے میں آنا ہو بقایا دے جانا" وہ کرسچئن اگلے روز 700 روپے گھر دے گیا۔ یہ ہے میرا پاکستان

آپ کے بچوں کے امتحانات

*" محترم والدین! آپ کے بچوں کے امتحانات جلد ہی شروع ہونے والے ہیں۔میں جانتا ہوں آپ سب لوگ اس چیز کو لے کر بہت بے چین ہیں کہ آپ کا بیٹا امتحانات میں اچھی کارکردگی دکھائے۔لیکن یاد رکھیں یہ بچے جو امتحانات دینے لگے ہیں ان میں (مستقبل کے) آرٹسٹ بھی بیٹھے ہیں جنھیں ریاضی سمجھنے کی ضرورت نہیں ہے۔اس میں بڑی بڑی کمپنیوں کے ترجمان بھی ہوں گے جنھیں انگلش ادب اور ہسٹری سمجھنے کی ضرورت نہیں ۔ان بچوں میں (مستقبل کے) موسیقار بھی بیٹھے ہوں گے جن کے لیے کیمسٹری کے کم مارکس کوئی معنی نہیں رکھتے ان سے ان کے مستبقل پر کوئی اثر نہیں پڑنے والا۔ان بچوں میں ایتھلیٹس بھی ہو سکتے ہیں جن کے فزکس کے مارکس سے زیادہ ان کی فٹنس اہم ہے۔ لہذا اگر آپ کا بچہ زیادہ مارکس لاتا ہے تو بہت خوب لیکن اگر وہ زیادہ مارکس نہیں لا سکا تو خدارا اس کی خود اعتمادی اور اس کی عظمت اس بچے سے نہ چھین لیجیے گا۔اگر وہ اچھے مارکس نہ لا سکے تو انھیں حوصلہ دیجیے گا کہ کوئی بات نہیں یہ ایک چھوٹا سا امتحان ہی تھا وہ زندگی میں  اس سے بھی کچھ بڑا کرنے کے لیے بنائے گئے ہیں۔اگر وہ کم مارکس لاتے ہیں تو انھیں بتا دیں کہ آپ پھر بھی ان سے


ایک لڑکے کو غصہ بہت زیادہ آتا تھا۔ بات بات پر طیش میں آجاتا تھا۔ اس کے باپ نے اس کو بولا کہ اب جب بھی تمہیں غصہ آئے گا اور تم چیخو گے یا کسی کو مارو گے تو اس کے بعد تم نے باہر جا کر فینس میں ہتھوڑی سے کیل ٹھوکنا ہے۔ جیسے ہی لڑکا غصہ کرتا، با ہر جا کر لکڑی کی فینس میں کیل ٹھوکتا۔ پہلے دن اس نے رات کو سونے سے پہلے جب کیل گنے تو پورے پینتیس کیل تھے۔ تھوڑا سا شرمندہ ہوا اور سمجھ گیا کہ اس کو علاج کی ضرورت تھی۔ اگلے دن پھر اسی طرح تیس کیل تھے۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ کیلوں کی تعداد کم ہوتی جا رہی تھی کیونکہ کیل ٹھکنے میں جتنی دیر اور جان لگتی تھی لڑکا سوچتا تھا کہ اس سے بہت بہتر تھا کہ وہ غصہ نہ کرتا تو وہ اکثر خود کو روک لیتا۔ پھر اس نے اپنے باپ کو بتایا جس دن ایک بھی کیل ٹھوکنے کی ضرورت نہ پڑی۔ باپ خوش ہوا اور بولا کہ اب سے نئی ڈیو ٹی ہے، جب بھی غصے کو کنٹرول کرو گے تو باہر جا کر پہلے سے لگائے ہوئے ایک کیل کو باہر نکال لو گے۔۔ٹھیک ہے؟۔۔۔ لڑکا مان گیا۔ پھر جب بھی اس کو غصہ آتا اور وہ اپنا غصہ پی جاتا تو باہر جا کر فینس میں سے اپنے پرانے ٹھونکے ہوئے کیلوں میں سے ایک نکال لیتا۔ جس دن سارے کیل

دوسروں کی تکلیف

ایک بازار سے ایک مغرور بندہ گذر رہا تھا کہ اس کی نظر سر پر ایک ڈول اٹھائے عورت پر پڑی، اس نے اسے آواز دیکر روکا اور نخوت سے پوچھا: اے مائی، کیا بیچ رہی ہو؟ عورت نے کہا: جی میں گھی بیچ رہی ہوں۔ اس شخص نے کہا: اچھا دکھاؤ تو، کیسا ہے؟ گھی کا وزنی ڈول سر سے اتارتے ہوئے کچھ گھی اس آدمی کی قمیض پر گرا تو یہ بہت بگڑ گیا اور دھاڑتے ہوئے بولا: نظر نہیں آتا کیا، میری قیمتی قمیض خراب کر دی ہے تو نے؟ میں جب تک تجھ سے اس قمیض کے پیسے نا لے لوں، تجھے تو یہاں سے ہلنے بھی نہیں دونگا۔ عورت نے بیچارگی سے کہا؛ میں مسکین عورت ہوں، اور میں نے آپ کی قمیض پر گھی جان بوجھ کر نہیں گرایا، مجھ پر رحم کرو اور مجھے جانے دو۔ اس آدمی نے کہا؛ جب تک تجھ سے دام نا لے لوں میں تو تجھے یہاں سے ہلنے بھی نہیں دونگا۔ عورت نے پوچھا: کتنی قیمت ہے آپ کی قمیض کی؟ اس شخص نے کہا: ایک ہزار درہم۔ عورت نے روہانسا ہوتے ہوئے کہا: میں فقیر عورت ہوں، میرے پاس سے ایک ہزار درہم کہاں سے آئیں گے؟ اس شخص نے کہا: مجھے اس سے کوئی غرض نہیں۔ عورت نے کہا: مجھ پر رحم کرو اور مجھے یوں رسوا نا کرو۔ ابھی یہ آدمی عورت پر اپنی دھونس اور دھمکی