Skip to main content

کراچی کے چند ہسپتال

کراچی کے چند ہسپتال جو مختلف امراض میں مبتلا مریضوں کو حتی الامکان مفت علاج فراہم کرتے ہیں
یہ پوسٹ مفاد عامہ کے لئے لگائی جارہی ہے۔
01- سوٹ  SUIT
گردوں کے تمام امراض کے علاج کے لئے ایک ورلڈ کلاس ہسپتال , مریض کے داخلے سے لے کر تمام ٹیسٹ , آپریشن , ڈائلاسس ,  دوائیاں , یہاں تک کہ مریض اگر چھوٹا بچہ ہے تو اس کے پیمپرز تک ہسپتال مہیا کرتا ہے , پورے پاکستان سے مریض یہاں آتے ہیں واپس کسی کو نہیں کیا جاتا البتہ مرض کی شدت کے حساب سے وقت دیا جاسکتا ہے ۔ ڈونرز ایک دو کے علاوہ سب نامعلوم ۔
http://www.siut.org
02- انڈس ہسپتال
کورنگی میں انڈس ہسپتال 2007 سے خدمات انجام دے رہا ہے ابھی تک بھی اس کے احاطہ میں توسیع کا کام مسلسل جاری ہے ۔ دل کے جملہ امراض کے لئے بالکل مفت علاج ۔
https://en.m.wikipedia.org/wiki/Indus_Hospital
03- بیت السکون
ہل پارک پر واقع کینسر ہسپتال , پہلے ٹیسٹ سے لے کر آپریشن اور پھر کیمو تھراپی , ریڈی ایشن اور پھر دوائیاں بھی بالکل مفت۔ کوئ انکوائری نہیں آپ کا اتنا بتادینا کافی ہے کہ آپ مستحق ہیں ۔
http://baitulsukoon.org
04- کرن ہسپتال
کراچی یونیورسٹی سے آگے حکومت پاکستان کے اٹامک انرجی کمیشن کے زیر انتظام چلنے والے ملک بھر کے بارہ ہسپتالوں میں سے ایک ۔ تشخیص , آپریشن , کیمو تھراپی , ریڈی ایشن اور دوائیاں کل ملا کر تین سے پانچ لاکھ روپے میں کینسر کا مکمل علاج ۔
http://www.kpws.org
04- جناح ہسپتال میں ابھی حال ہی میں چند مخیر حضرات کے تعاون سے کینسر کا علاج جدید مشینوں پر کرنے کے لئے کام جاری ہے اور یہ علاج بھی مکمل فری آف کوسٹ بتایا جارہا ہے ۔
اس کے علاوہ مختلف کمیونیٹیز کے زیر انتظام چلنے والے چھوٹے چھوٹے بیشمار ہسپتال کراچی میں موجود ہیں جو کسی نمود و نمائش کی چاہ کے بغیر خدمت خلق انجام دے رہے ہیں ۔

Post a Comment

Popular posts from this blog

Mirat-ul-Uroos - Fariha Pervez - Lyrics

میرا ایک چھوٹا سا سپنا ہے
جسے پل میں پورا کر دے گا
ان آتی جاتی سانسوں میں
وہ خوشبو کوئی بھر دے گا
مجھے اونچی ہواوُں میں اڑنا ہے
اور امبر کو جا چھونا ہے
سونا ہے یار کے بستر پر
پھر ہر ایک خواہش میں جگنا ہے
جب چاہوں گھوموں بگھیا میں
میں تتلی ہوں مجھے پر دیتا
وہاں کیسے چیں ملے مجھ کو
جہاں قدم قدم پر پہرے ہوں
دم گھٹتا ہوجہاں  رہتے ہوئے
جہاں غم کے سائے گہرے ہوں
جومنزل پر لے جائے گی
وہ مجھ کو ایسی ڈگر دے گا
میں چلتے چلتے تھک بھی گئی
اور منزل ہاتھ نہیں آئی
خود اپنے سپنے تور لیئے
اور سکھ کی رات نہیں آئی
اب آکے ہوا مجھے انداذہ
میرا ساتھ وہ ذندگی بھر دے گا
کیوں حد سے گزری وحشت میں
اسے دھیرے دھیرے کیوں نہ چھوا
کیوں سارے ناتے ٹوٹ گئے
بھری بھول ہوئی احساس ہوا
جب ٹوٹے لمحے جوڑوں گی
مجھے جینے کی وہ خبر دے گا
میرا چھوٹا سا اک سپنا ہے
جسے پل میں پورا کردے گا
ان آتی جاتی سانسوں میں
وہ خوشبو کوئی بھر دے گا

Khuda Karay K Meri Arz -e- Pak Par Utray

خدا کرے کہ میری ارض پاک پر اترے وہ فصل گل ، جسے اندیشہ زوال نہ ہو یہاں جو پھول کھلے، وہ کھلا رہے صدیوں یہاں خزاں کو گزرنے کی بھی مجال نہ ہو
یہاں جو سبزہ اگے، وہ ہمیشہ سبز رہے اور ایسا سبز ، کہ جس کی کوٴی مثال نہ ہو گھنی گھٹاٴیں یہاں ایسی بارشیں برسا ٴیں کہ پتھروں سے بھی روٴید گی محال نہ ہو
خدا کرے کہ نہ خم ہو سر وقار وطن اور اس کے حسن کو تشویش ماہ و سال نہ ہو ہرایک فرد ہو تہذیب و فن کا اوج کمال کوٴی ملول نہ ہو، کوٴی خستہ حال نہ ہو
خدا کرے کہ میرے اک بھی ہم وطن کےلیے حیات جرم نہ ہو، زندگی وبال نہ ہو خدا کرے کہ میری ارض پاک پر اترے وہ فصل گل ، جسے اندیشہ زوال نہ ہو

ضروری تو نہیں

میں بتا دوں تمہیں ہربات ضروری تو نہیں
آخری ہو یہ ملاقات ضروری تو نہیںجیت جانا تمہیں دشوار نہیں لگتا تھا
آج بھی ہوگی مجھے مات ضروری تو نہیںآدمی فہم و ذکاء سے ہے مزین لیکن
بند ہو جائے خرافات ضروری تو نہیںدل کی راہوں پہ کڑا پہرا ہے خوش فہمی کا
مجھ سے کھیلیں میرے جذبات ضروری تو نہیںامتحاں گاہ سے تو جاتے ہیں سبھی خوش ہوکر
ٹھیک ہوں سب کے جوابات ضروری تو نہیںممتحن میں تو تیرے نام سے لرزاں تھی مگر
تیرے تیکھے ہوں سوالات ضروری تو نہیںمجھ کو انسان کی قدریں بھی بہت بھاتی ہیں
بیش قیمت ہوں جمادات ضروری تو نہیںیوں تو زر اور زمیں بھی ہیں مگر عورت ہو
باعث وجہ فسادات ضروری تو نہیںہر نئے سال کی آمد پر یہ کیوں سوچتی ہوں
اب بدل جائیں گے حالات ضروری تو نہیں[پروین شاکر]