Skip to main content

Posts

Showing posts from February, 2017

PUT A SHARK IN THE TANK

وہ دووور کے سمندروں میں شکار کے لئے جاتے تھے ، برف میں لگی مچھلیاں ساحل تک پہنچتے باسی ہو جاتی تھیں - پھر انہوں نے فشنگ ٹرالرز میں واٹر ٹینک بنا لئے مگر اب بھی مہینوں کے سفر میں  وہ زندہ تو رہتی تھیں مگر ایکٹو اور متحرک نہ رہنے کی وجہ سے گوشت میں وہ لذت برقرار نہیں رہ پاتی تھی۔۔۔
پھر مچھیروں نے ان بڑے بڑے ٹینکوں میں ایک "شارک "چھوڑ نا شروع کر دی اور پھریوں ہوا کہ ساری مچھلیاں  مسلسل ایکٹو ،الرٹ  رہنے لگیں ۔۔۔
یاد رکھیں !

ایکٹو، پر جوش ،پر عزم اور جدو جہد سے بھرپور زندگی جینی ہے ،جھپٹنا پلٹنا اور پلٹ کر جھپٹنا ہے تو اپنی زندگی میں کوئی چیلنج ،کوئی بڑا ہدف ،کوئی بڑا خواب رکھو!

لہو بھی گرم رہے گا اور جینے کا مزہ بھی آئے گا
As received

یہ ہے میرا پاکستان

2005ء کا ہولناک زلزلہ آیا تو اس سے خیبر پختون خوا میں واقع میرا ضلع بھی متاثر تھا۔ میں اور میرا بھائی اس ضلع میں مدد کو پہنچے تو ہمارے ساتھ ہمارے دو پنجابی اور دو مہاجر دوست بھی تھے جو اپنے ذاتی لاکھوں روپے وہاں خرچ کرنے  آئے تھے۔ یہ ہے میرا پاکستان
کچھ عرصہ قبل میرا ایک بھائی اپنے دوستوں کے ساتھ نصف شب کے وقت سندھ کی ایک ویران شاہراہ سے گزر رہاتھا تو ٹائر پنکچر ہو گیا۔ وہ ٹائر بدلنے کو رکے تو پیچھے سے ایک بڑی گاڑی بھی آ کر رک گئی، ایک وڈیرہ ٹائپ شخص اپنے گن مینوں کے ساتھ اترا اور وہیں کھڑا ہو گیا۔ میرے بھائی نے شکریہ ادا کرکے آگاہ کیا کہ کسی قسم کی مدد درکار نہیں تو وہ یہ کہہ کر آخر تک کھڑا رہا "یہ علاقہ محفوظ نہیں، آپ کو تنہاء نہیں چھوڑا جا سکتا" یہ ہے میرا پاکستان
میں نصف شب کے قریب اسلام آباد کے جی 8 سیکٹر سے ایک کرسچئن کی ٹیکسی میں بیٹھ کر پنڈی اپنے گھر آیا اور جیب میں صرف ہزار کا نوٹ تھا، چینج نہ ہونے کے سبب میں نے یہ کہہ کر وہ نوٹ اسے دیدیا "جب بھی اس علاقے میں آنا ہو بقایا دے جانا" وہ کرسچئن اگلے روز 700 روپے گھر دے گیا۔ یہ ہے میرا پاکستان
اسلام آباد کے آئی 1…

آپ کے بچوں کے امتحانات

*" محترم والدین!
آپ کے بچوں کے امتحانات جلد ہی شروع ہونے والے ہیں۔میں جانتا ہوں آپ سب لوگ اس چیز کو لے کر بہت بے چین ہیں کہ آپ کا بیٹا امتحانات میں اچھی کارکردگی دکھائے۔لیکن یاد رکھیں یہ بچے جو امتحانات دینے لگے ہیں ان میں (مستقبل کے) آرٹسٹ بھی بیٹھے ہیں جنھیں ریاضی سمجھنے کی ضرورت نہیں ہے۔اس میں بڑی بڑی کمپنیوں کے ترجمان بھی ہوں گے جنھیں انگلش ادب اور ہسٹری سمجھنے کی ضرورت نہیں ۔ان بچوں میں (مستقبل کے) موسیقار بھی بیٹھے ہوں گے جن کے لیے کیمسٹری کے کم مارکس کوئی معنی نہیں رکھتے ان سے ان کے مستبقل پر کوئی اثر نہیں پڑنے والا۔ان بچوں میں ایتھلیٹس بھی ہو سکتے ہیں جن کے فزکس کے مارکس سے زیادہ ان کی فٹنس اہم ہے۔
لہذا اگر آپ کا بچہ زیادہ مارکس لاتا ہے تو بہت خوب لیکن اگر وہ زیادہ مارکس نہیں لا سکا تو خدارا اس کی خود اعتمادی اور اس کی عظمت اس بچے سے نہ چھین لیجیے گا۔اگر وہ اچھے مارکس نہ لا سکے تو انھیں حوصلہ دیجیے گا کہ کوئی بات نہیں یہ ایک چھوٹا سا امتحان ہی تھا وہ زندگی میں  اس سے بھی کچھ بڑا کرنے کے لیے بنائے گئے ہیں۔اگر وہ کم مارکس لاتے ہیں تو انھیں بتا دیں کہ آپ پھر بھی ان سے …

غصہ

ایک لڑکے کو غصہ بہت زیادہ آتا تھا۔ بات بات پر طیش میں آجاتا تھا۔ اس کے باپ نے اس کو بولا کہ اب جب بھی تمہیں غصہ آئے گا اور تم چیخو گے یا کسی کو مارو گے تو اس کے بعد تم نے باہر جا کر فینس میں ہتھوڑی سے کیل ٹھوکنا ہے۔ جیسے ہی لڑکا غصہ کرتا، با ہر جا کر لکڑی کی فینس میں کیل ٹھوکتا۔ پہلے دن اس نے رات کو سونے سے پہلے جب کیل گنے تو پورے پینتیس کیل تھے۔ تھوڑا سا شرمندہ ہوا اور سمجھ گیا کہ اس کو علاج کی ضرورت تھی۔ اگلے دن پھر اسی طرح تیس کیل تھے۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ کیلوں کی تعداد کم ہوتی جا رہی تھی کیونکہ کیل ٹھکنے میں جتنی دیر اور جان لگتی تھی لڑکا سوچتا تھا کہ اس سے بہت بہتر تھا کہ وہ غصہ نہ کرتا تو وہ اکثر خود کو روک لیتا۔
پھر اس نے اپنے باپ کو بتایا جس دن ایک بھی کیل ٹھوکنے کی ضرورت نہ پڑی۔ باپ خوش ہوا اور بولا کہ اب سے نئی ڈیو ٹی ہے، جب بھی غصے کو کنٹرول کرو گے تو باہر جا کر پہلے سے لگائے ہوئے ایک کیل کو باہر نکال لو گے۔۔ٹھیک ہے؟۔۔۔
لڑکا مان گیا۔ پھر جب بھی اس کو غصہ آتا اور وہ اپنا غصہ پی جاتا تو باہر جا کر فینس میں سے اپنے پرانے ٹھونکے ہوئے کیلوں میں سے ایک نکال لیتا۔ جس دن سارے کیل ن…