Skip to main content

یہ ہے میرا پاکستان


2005ء کا ہولناک زلزلہ آیا تو اس سے خیبر پختون خوا میں واقع میرا ضلع بھی متاثر تھا۔ میں اور میرا بھائی اس ضلع میں مدد کو پہنچے تو ہمارے ساتھ ہمارے دو پنجابی اور دو مہاجر دوست بھی تھے جو اپنے ذاتی لاکھوں روپے وہاں خرچ کرنے 
آئے تھے۔ یہ ہے میرا پاکستان

کچھ عرصہ قبل میرا ایک بھائی اپنے دوستوں کے ساتھ نصف شب کے وقت سندھ کی ایک ویران شاہراہ سے گزر رہاتھا تو ٹائر پنکچر ہو گیا۔ وہ ٹائر بدلنے کو رکے تو پیچھے سے ایک بڑی گاڑی بھی آ کر رک گئی، ایک وڈیرہ ٹائپ شخص اپنے گن مینوں کے ساتھ اترا اور وہیں کھڑا ہو گیا۔ میرے بھائی نے شکریہ ادا کرکے آگاہ کیا کہ کسی قسم کی مدد درکار نہیں تو وہ یہ کہہ کر آخر تک کھڑا رہا "یہ علاقہ محفوظ نہیں، آپ کو تنہاء نہیں چھوڑا جا سکتا" یہ ہے میرا پاکستان

میں نصف شب کے قریب اسلام آباد کے جی 8 سیکٹر سے ایک کرسچئن کی ٹیکسی میں بیٹھ کر پنڈی اپنے گھر آیا اور جیب میں صرف ہزار کا نوٹ تھا، چینج نہ ہونے کے سبب میں نے یہ کہہ کر وہ نوٹ اسے دیدیا "جب بھی اس علاقے میں آنا ہو بقایا دے جانا" وہ کرسچئن اگلے روز 700 روپے گھر دے گیا۔ یہ ہے میرا پاکستان

اسلام آباد کے آئی 10 سیکٹر میں میرا بیٹا بیمار ہوا، میں ٹیکسی والے سے بھاؤ تاؤ کئے بغیر فورا اسے ٹیکسی میں ڈال کر پمز پہنچا اور ٹیکسی والے سے کرایہ پوچھا تو اس نے کہا "میں مریضوں سے کرایہ نہیں لیتا" عرض کیا "مجھے کوئی تنگی نہیں، آپ لے لیں" تو اس نے کہا "اللہ آپ کو اور دے مگر میں مریضوں سے کرایہ نہیں لیتا" یہ ہے میرا پاکستان

میں بہت ہی اداس کیفیت میں کراچی کے ایک چائے خانے پر بہت دیر سے بیٹھا تھا، دس برس کا کوئٹہ وال ویٹر بچہ میرے پاس آیا اور مسکراتے ہوئے پوچھا "تم کیوں اتنا پریشان بیٹھا ہے ؟" اور میرا سارا دکھ اسی لمحے ختم ہوگیا۔ یہ ہے میرا پاکستان
منقول
Post a Comment

Popular posts from this blog

Mirat-ul-Uroos - Fariha Pervez - Lyrics

میرا ایک چھوٹا سا سپنا ہے
جسے پل میں پورا کر دے گا
ان آتی جاتی سانسوں میں
وہ خوشبو کوئی بھر دے گا
مجھے اونچی ہواوُں میں اڑنا ہے
اور امبر کو جا چھونا ہے
سونا ہے یار کے بستر پر
پھر ہر ایک خواہش میں جگنا ہے
جب چاہوں گھوموں بگھیا میں
میں تتلی ہوں مجھے پر دیتا
وہاں کیسے چیں ملے مجھ کو
جہاں قدم قدم پر پہرے ہوں
دم گھٹتا ہوجہاں  رہتے ہوئے
جہاں غم کے سائے گہرے ہوں
جومنزل پر لے جائے گی
وہ مجھ کو ایسی ڈگر دے گا
میں چلتے چلتے تھک بھی گئی
اور منزل ہاتھ نہیں آئی
خود اپنے سپنے تور لیئے
اور سکھ کی رات نہیں آئی
اب آکے ہوا مجھے انداذہ
میرا ساتھ وہ ذندگی بھر دے گا
کیوں حد سے گزری وحشت میں
اسے دھیرے دھیرے کیوں نہ چھوا
کیوں سارے ناتے ٹوٹ گئے
بھری بھول ہوئی احساس ہوا
جب ٹوٹے لمحے جوڑوں گی
مجھے جینے کی وہ خبر دے گا
میرا چھوٹا سا اک سپنا ہے
جسے پل میں پورا کردے گا
ان آتی جاتی سانسوں میں
وہ خوشبو کوئی بھر دے گا

Khuda Karay K Meri Arz -e- Pak Par Utray

خدا کرے کہ میری ارض پاک پر اترے وہ فصل گل ، جسے اندیشہ زوال نہ ہو یہاں جو پھول کھلے، وہ کھلا رہے صدیوں یہاں خزاں کو گزرنے کی بھی مجال نہ ہو
یہاں جو سبزہ اگے، وہ ہمیشہ سبز رہے اور ایسا سبز ، کہ جس کی کوٴی مثال نہ ہو گھنی گھٹاٴیں یہاں ایسی بارشیں برسا ٴیں کہ پتھروں سے بھی روٴید گی محال نہ ہو
خدا کرے کہ نہ خم ہو سر وقار وطن اور اس کے حسن کو تشویش ماہ و سال نہ ہو ہرایک فرد ہو تہذیب و فن کا اوج کمال کوٴی ملول نہ ہو، کوٴی خستہ حال نہ ہو
خدا کرے کہ میرے اک بھی ہم وطن کےلیے حیات جرم نہ ہو، زندگی وبال نہ ہو خدا کرے کہ میری ارض پاک پر اترے وہ فصل گل ، جسے اندیشہ زوال نہ ہو

ضروری تو نہیں

میں بتا دوں تمہیں ہربات ضروری تو نہیں
آخری ہو یہ ملاقات ضروری تو نہیںجیت جانا تمہیں دشوار نہیں لگتا تھا
آج بھی ہوگی مجھے مات ضروری تو نہیںآدمی فہم و ذکاء سے ہے مزین لیکن
بند ہو جائے خرافات ضروری تو نہیںدل کی راہوں پہ کڑا پہرا ہے خوش فہمی کا
مجھ سے کھیلیں میرے جذبات ضروری تو نہیںامتحاں گاہ سے تو جاتے ہیں سبھی خوش ہوکر
ٹھیک ہوں سب کے جوابات ضروری تو نہیںممتحن میں تو تیرے نام سے لرزاں تھی مگر
تیرے تیکھے ہوں سوالات ضروری تو نہیںمجھ کو انسان کی قدریں بھی بہت بھاتی ہیں
بیش قیمت ہوں جمادات ضروری تو نہیںیوں تو زر اور زمیں بھی ہیں مگر عورت ہو
باعث وجہ فسادات ضروری تو نہیںہر نئے سال کی آمد پر یہ کیوں سوچتی ہوں
اب بدل جائیں گے حالات ضروری تو نہیں[پروین شاکر]