Posts

Showing posts from March, 2018

Jigar Dareeda Ho (Faiz Ahmed Faiz)

جگر دریدہ ہوں، چاکِ جگر کی بات سنو الم رسیدہ ہوں، دامانِ تر کی بات سنو زباں بریدہ ہوں، زخمِ گلو سے حرف کرہ شکستہ پاہ ہوں ملالِ سفر کی بات سنو مسافرِ رہِ صحراےٗ ظلمتِ شب ہوں اب التفاتِ نگارِ سحر کی بات سنو سحر کی بات، امیدِ سحر کی بات سنو