غصہ

ایک لڑکے کو غصہ بہت زیادہ آتا تھا۔ بات بات پر طیش میں آجاتا تھا۔ اس کے باپ نے اس کو بولا کہ اب جب بھی تمہیں غصہ آئے گا اور تم چیخو گے یا کسی کو مارو گے تو اس کے بعد تم نے باہر جا کر فینس میں ہتھوڑی سے کیل ٹھوکنا ہے۔ جیسے ہی لڑکا غصہ کرتا، با ہر جا کر لکڑی کی فینس میں کیل ٹھوکتا۔ پہلے دن اس نے رات کو سونے سے پہلے جب کیل گنے تو پورے پینتیس کیل تھے۔ تھوڑا سا شرمندہ ہوا اور سمجھ گیا کہ اس کو علاج کی ضرورت تھی۔ اگلے دن پھر اسی طرح تیس کیل تھے۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ کیلوں کی تعداد کم ہوتی جا رہی تھی کیونکہ کیل ٹھکنے میں جتنی دیر اور جان لگتی تھی لڑکا سوچتا تھا کہ اس سے بہت بہتر تھا کہ وہ غصہ نہ کرتا تو وہ اکثر خود کو روک لیتا۔
پھر اس نے اپنے باپ کو بتایا جس دن ایک بھی کیل ٹھوکنے کی ضرورت نہ پڑی۔ باپ خوش ہوا اور بولا کہ اب سے نئی ڈیو ٹی ہے، جب بھی غصے کو کنٹرول کرو گے تو باہر جا کر پہلے سے لگائے ہوئے ایک کیل کو باہر نکال لو گے۔۔ٹھیک ہے؟۔۔۔
لڑکا مان گیا۔ پھر جب بھی اس کو غصہ آتا اور وہ اپنا غصہ پی جاتا تو باہر جا کر فینس میں سے اپنے پرانے ٹھونکے ہوئے کیلوں میں سے ایک نکال لیتا۔ جس دن سارے کیل نکال لیے تو پھر اپنے باپ کو بتایا کہ ابو میں نے آج سارے ہی نکال لیے۔ باپ نے اس کو شاباش دی اور بولا کہ آؤ میرے ساتھ فینس کو دیکھیں۔ فینس کی حالت دیکھی تو اس میں سوراخ ہی سوراخ تھے۔ باپ نے لڑکے کی طرف دیکھا اور بڑے معنی خیز انداز میں اپنے بیٹے کو موئثر نصیحت کی کہ اسی طرح غصے میں بولے ہوئے الفاظ کسی کا بھی دل دکھاتے ہیں، لوگوں کی دل آزاری کرتے ہیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ غصہ تو ختم ہو جاتا ہے مگر اس سے ہم دوسروں کو جو چوٹ لگاتے ہیں وہ ان سوراخوں کی طرح ان کے دل پر ہمیشہ اپنے نشان چھوڑ دیتی ہے۔ اس لیے یاد رکھو کہ غصہ بہترین دوستی اور مضبوط ترین ناتوں کو نیست و نابوط کر دیتا ہے۔ اس سے حد درجہ پرہیز کرو۔

Comments

Popular posts from this blog

Khuda Karay K Meri Arz -e- Pak Par Utray

Yaar Ko Hamne Ja Baja Dekha (+ lyrics)

میرے بعد بہت سناٹا ہوگا